.

ابوبکر البغدادی کے ہم زلف کا ’’العربیہ‘‘ کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند تنظیم داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے اپنی حفاظت کا خصوصی انتظام کر رکھا تھا، اسی سیکیورٹی حصار کی وجہ سے انہیں زعم تھا کہ انہیں قتل نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک جگہ زیادہ مدت کے لیے قیام نہیں کرتا۔ عراق کے سرحدی علاقوں سے شام کے درمیان وقفے وقفے سے اپنا ٹھکانا تبدیل کرنے والے البغدادی کے آخری ٹھکانے کا پتا کسی اور نے نہیں بتایا بلکہ یہ لنکا ان کے گھر کے بھیدی یعنی ہم زلف محمد علی ساجت نے ڈھایا۔ محمد علی ساجت ان دنوں عراقی انٹیلی جنس کے سیف ہاؤس میں ہیں۔ وہ داعش کے سربراہ البغدادی کے ذاتی مددگار کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

25 ملین ڈالر صحراء میں

محمد علی ساجت کا کہنا تھا کہ داعش کے بزعم خود سربراہ ابوبکر البغدادی کے گرد سیکیورٹی کا جتنا سخت حصار تھا اسے دیکھتے ہوئے وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اب وہ اس دنیا میں نہ رہے۔ ’’العربیہ‘‘ نیوز چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد علی ساجت نے داعش رہنما کی زندگی کے آخری دنوں سے متعلق سیر حاصل گفتگو کی۔ انھوں نے بتایا کہ ابوبکر البغدادی شام اور عراق کے سرحدی علاقوں کے درمیان بڑی سرعت سے اپنے ٹھکانے تبدیل کرتے رہتے تھے۔

انھوں نے عراقی شہر الانبار کے صحراء میں 25 ملین ڈالر گما دیے۔ یہ رقم ایک چرواہے کو ملی۔ محمد علی ساجت نے بتایا کہ البغدادی شوگر اور بلند فشار خون کے مریض تھے۔ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے دوران ہمیشہ بارودی جیکٹ کمر سے باندھ کر سفر کرتے تھے۔

خیانت سے ’’خلافت‘‘ کا خاتمہ

محمد علی ساجت نے بتایا کہ وہ ابوبکر البغدادی سے شام میں کئی مرتبہ مل چکے تھے۔ ایک بار ملاقات ادلب میں بھی ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ داعش کی صفوں میں خیانت کاروں کی وجہ سے تنظیم کا شیرازہ بکھرا جو بالآخر مزعومہ خلافت کے خاتمے پر منتج ہوا۔
ایک سوال کے جواب میں محمد علی ساجت کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ عراقی فورسز ابوبکر البغدادی کے قریب پہنچی تاہم وہ ہر مرتبہ انہیں جل دے کر نکل جاتے، آخری مرتبہ وہ زیر زمین بیسمنٹ سے نکل کر فرار ہوئے۔

انھوں نے بتایا ابوبکر البغدادی کے لیے پیغام رسانی کرنے والے دسیوں ’’پیامبر‘‘ فنا کے گھاٹ اتارے گئے مبادہ وہ داعش سربراہ کا ٹھکانا آشکار کر دیں۔ داعش کے رہنما موبائل فون استعمال نہیں کرتے تھے۔ وہ قابل اعتبار پانچ افراد کی معیت میں سفر کرتے تھے، جس میں عراقی اور عرب شامل تھے۔

چار خواتین سے نالاں

البغدادی کے ہم زلف نے بتایا کہ آخری دنوں میں وہ انتہائی خوف زدہ رہنے لگے تھے۔ قتل کے وقت ان کے نکاح میں چار خواتین تھیں۔ دہشت گرد رہنما نے داعش کے نائب حاجی عبداللہ پر زور دیا تھا کہ وہ عراق پر حملے تیز کریں۔

’’گذشتہ رمضان روزے نہیں رکھے‘‘

ابوبکر البغدادی کے قریبی رشتہ دار اور ہمنوا محمد علی ساجت نے بتایا کہ انھوں نے عراقی خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر داعش کے سربراہ کی قیام گاہ کا پردہ چاک کیا۔ یہ معلومات انہیں مضافات میں البغدادی کے ملنے والے خط کے ذریعے ان تک پہنچیں۔

محمد علی ساجت نے ’’العربیہ‘‘ کو وہ بندوق دکھائی جو ان کی آخری مرتبہ منظر عام پر آتے وقت ساتھ تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہم آٹھ میٹر طویل زیر زمین سرنگ میں نو دن ایک ساتھ مقیم رہے۔ اس دوران البغدادی کی ایک اہلیہ بھی ہمراہ تھی۔

ساتھی وہمنوا کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ البغدادی نے گذشتہ رمضان المبارک میں روزے نہیں رکھے۔ انھوں نے اپنے ہمنواؤ اور مصاحبین سے بھی روزے ترک کرنے کا کہہ رکھا تھا۔ آخری دنوں میں البغدادی کا سیکیورٹی نگران ان کا اپنا بھائی حازم تھا۔

’’مر گیا ۔۔۔ مر گیا‘‘

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں البغدادی کے مرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا کے خطرناک دہشت گرد کے ساتھ قانون کے مطابق معاملہ کر دیا ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ امریکی فوجیوں نے جب البغدادی کو محاصرے میں لیا تو وہ اپنے تین بچوں کے ہمراہ سرنگ کی جانب فرار ہوئے جہاں انھوں نے بارودی مواد سے لیس اس جیکٹ کو دھماکے سے آڑا دیا جو ان کی کمر کے گرد بندھی رہتی تھی۔

صدر ٹرمپ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ’’وہ بیمار اور بھٹکا شخص تھا، اب وہ بزدل کتے کی طرح اپنے انجام کو جا پہنچا ہے۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے البغدادی کے خلاف کی جانے والی کارروائی میں عراق، شام اور روس کی جانب سے کئے گئے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔