.

بغداد میں پُلوں پر معرکہ آرائی ، ذی قار میں ارکان پارلیمنٹ کے گھر نذر آتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی دارالحکومت بغداد میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھی گذشتہ راتوں کا منظر نامہ دہرایا گیا جہاں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان صورت حال کشیدہ رہی۔

احتجاج کنندگان نے پُلوں کو بند رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا بالخصوص الاحرار اور الجمہوریہ پُل جو بغداد کے وسط میں واقع ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں بعض مظاہرین کے دم گھٹ گئے۔

سیکورٹی فورسز نے منگل کے روز بتایا تھا کہ بغداد میں مظاہرین کے ساتھ خون ریز تصادم کے بعد الاحرار پُل کے دونوں جانب صورت حال کنٹرول میں ہے۔ اس تصادم کے نتیجے میں 7 مظاہرین ہلاک ہو گئے جب کہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ زخمیوں میں سیکورٹی فورسز کا ایک اہل کار شامل تھا۔

ادھر کربلا صوبے میں متعدد مظاہرین نے صوبائی حکومت کی عمارت پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ ملک کے جنوبی صوبے ذی قار میں کئی مظاہرین نے صوبے میں ارکان پارلیمنٹ کی رہائش گاہوں کو آگ لگا دی۔ العربیہ کے نمائندے کے مطابق غصے میں بپھرے ہوئے احتجاج کنندگان نے منگل کی شب الناصریہ شہر کے شمال میں الشطرہ کے علاقے میں تین ارکان پارلیمنٹ کے گھروں کو نذر آتش کر دیا۔

دوسری جانب عراقی خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ احتجاج کنندگان نے جنوبی شہر بصرہ میں ام قصر کی بندرگاہ کی بندش کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی عراقی رصد گاہ کے مطابق ام قصر کے واقعات میں کم از کم دو افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

علاوہ ازیں دھرنا دینے والوں نے تیل کی تنصیبات اور اہم علاقوں کے نزدیک نئے دھرنوں کی دھمکی دی ہے۔ مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے استعمال کیے جانے والے اس کارڈ کا مقصد حکومت کو مستعفی ہونے کی طرف دھکیلنا ہے۔ ادھر عراقی قبائلی شیوخ اور عمائدین نے مظاہرین کے ساتھ شمولیت اور ان کے مطالبات کی تائید کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر کی ابتدا میں شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک 260 سے زیادہ عراقی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ مظاہرے موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے ہو رہے ہیں جو مظاہرین کے نزدیک بدعنوان ہے اور غیر ملکی طاقتوں جن میں ایران سرفہرست ہے ، ان کے احکامات کی تعمیل میں مصروف ہے۔

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی مظاہرین سے یہ اپیل کر چکے ہیں کہ وہ اپنی تحریک کو روک دیں۔ عبدالمہدی کے مطابق مظاہرین کا احتجاج اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب وہ معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ اگر سیاست دان متبادل پر متفق ہو گئے تو وہ اپنا استعفا پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عبدالمہدی نے متعدد اصلاحات کا بھی وعدہ کیا۔