.

عراقی سیاست دانوں کے نئی کابینہ کے لیے صلاح مشورے، احتجاجی مظاہرے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سیاست دانوں نے وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے استعفے کی منظوری کے ایک روز بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے صلاح مشورے شروع کردیے ہیں جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی جاری ہیں۔

العربیہ کے نمایندے کے مطابق الفتح اتحاد آیندہ حکومت کی قیادت کے لیے اپنے امیدوار (وزیراعظم )کا نام پیش کرے گا۔اس اتحاد میں شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی سے وابستہ گروپوں کو بالادستی حاصل ہے۔

شعلہ بیان شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر کے زیر قیادت انتخابی اتحاد سائرون نے نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے کڑی شرائط عاید کردی ہیں اور اس نے نئی حکومت میں وزیراعظم سمیت تمام عہدے داروں کی عوامی ریفرینڈم کے ذریعے منظوری کا مطالبہ کیا ہے۔

عادل عبدالمہدی نے اپنی حکومت کے خلاف جاری پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد جمعہ کو مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تھا۔عراقی کابینہ اور پارلیمان دونوں نے ان کے استعفے کی منظوری دے دی ہے۔

ادھر جنوبی شہر الناصریہ میں مظاہرین نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور انھوں نے شہر میں دریائے فرات پر واقع پُلوں پر قبضہ کررکھا ہے۔

بغداد اور عراق کے جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر سے حکومت مخالف پُرتشدد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور جھڑپوں میں چار سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔عراقی سکیورٹی فورسز کے اہلکاراحتجاجی ریلیوں میں شریک مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلاتے ہیں جس سے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ علی سیستانی نے گذشتہ جمعہ کو ایک بیان میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور حکومت کے ردعمل کی مذمت کی تھی۔