.

میں نے مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دیا : ایرانی خاتون عہدے دار کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں تہران صوبے کے مغرب میں واقع قُدس ضلع کی خاتون حاکم لیلی واثقی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ذاتی حیثیت سے پولیس فورس کو حالیہ احتجاج کے دوران مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا۔ واثقی کے مطابق پاسداران انقلاب نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں سرگرم کردار ادا کیا ہے۔

واثقی نے مزید کہا کہ "ضلعی حکومت کی عمارت پر حملہ کرنے والے عناصر چور اچکے تھے اور میں نے ان پر فائرنگ کا حکم دیا... میں نے ہی پولیس کو احکامات دیے کہ جو شخص بھی ضلعی عمارت میں داخل ہو اس پر گولی چلائی جائے"۔

قدس کی حاکمہ کے مطابق مظاہرین کمپیوٹر اور ٹیلی وژن سیٹس لے اُڑے ، یہ لوگ چوروں کی طرح تھے ،،، یہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج کرنے والے نہ تھے۔ پاسداران انقلاب کے دستے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو کچلنے کے واسطے پہلے روز سے ہی سرگرم تھے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جمعے کے روز ٹویٹر پر بتایا کہ تنظیم کو موصول ہونے والی قابل اعتماد رپورٹوں کے مطابق ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 161 ہو چکی ہے۔ تنظیم کے مطابق ہلاک شدگان کی حقیقی تعداد غالبا کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے فیصلے کے خلاف ایران کے اکثر صوبوں میں 15 نومبر کو شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ 5 روز تک جاری رہا۔

ایمنسٹی کی سابقہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں چھتوں پر موجود نشانچیوں، ہیلی کاپٹروں اور سڑکوں پر لاٹھی چارج کے سبب واقع ہوئیں۔ تنظیم نے ٹویٹر پر بعض وڈیوز پوسٹ کیں جن سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ سڑکوں پر آنے والے مظاہرین سے کس بے دردی کے ساتھ نمٹا گیا۔

ایمنسٹی کے مطابق بعض ہلاک شدگان کی لاشیں اور اسی طرح زخمیوں کو بھی ہسپتال سے "ہٹا دیا گیا"۔