.

بغداد میں مسلح حملہ آوروں کے مظاہرین پرخونیں حملے کے باوجود احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں کے خونریز حملے کے باوجود مظاہرین نے حکومت مخالف احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور وہ جنوبی شہروں میں بھی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

بغداد میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب نامعلوم حملہ آوروں نے مظاہرین پر دھاوا بول دیا تھا اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی۔انھوں نے مظاہرین سے ایک عمارت کو مختصر وقت کے لیے خالی بھی کرالیا تھا۔ان کی یہ کارروائی ہفتے کی صبح تک جاری رہی تھی۔

سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان مسلح حملہ آوروں کی اس کارروائی کے وقت نزدیک ہی موجود تھے مگر انھوں نے کوئی مداخلت نہیں کی اور ان نقاب پوشوں کو آزادانہ خون کی ہولی کھیلنے دی ہے۔

حکومت مخالف مظاہرین پر یکم اکتوبر سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران میں یہ سب سے بڑا خونیں حملہ تھا۔ عراقی حکام کے مطابق اس حملے میں مرنے والے مظاہرین کی تعداد پچاس ہوگئی ہے اور ایک سو تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔طوائف الملوکی کا شکار اس ملک میں مظاہرین کی ایک دن میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

یورپی یونین ، فرانس اور برطانیہ نے ہفتے کے روز الگ الگ بیانات میں اس حملے کی مذمت کی ہے۔واضح رہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکتے اور براہ راست فائرنگ کرتے رہتے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ سکیورٹی فورسز کے بجائے مسلح حملہ آوروں نے مظاہرین پر کھلم عام دھاوا بولا ہے اور ان کا عراقی سکیورٹی فورسز سے کوئی تعلق نہیں مگر کوئی گروپ اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوا۔

حملہ آوروں نے بغداد کے خیلانی چوک اور دریائے دجلہ پر واقع السنک پُل پر مظاہرین پر حملہ کیا تھا۔ان دونوں کے درمیان واقع علاقہ بغداد میں احتجاجی مظاہروں کا مرکز ہے۔

حکومت مخالف مظاہرین نے ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔ان ملیشیاؤں کے جنگجو گذشتہ ہفتوں کے دوران میں بغداد اور عراق کے جنوبی شہروں میں مظاہرین پر ایسے ہی حملے کرتے رہے ہیں۔

عراق میں گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ سے جاری ان پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں وزیراعظم عادل عبدالمہدی 29 نومبر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے اور یکم دسمبر کو پارلیمان نے ان کے استعفے کی منظوری دے دی تھی۔

اب عراقی سیاست دانوں نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے صلاح ومشورے جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ نئی حکومت کی تشکیل کے عمل میں سپاہ پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی بھی دخیل ہورہے ہیں اور وہ گذشتہ ہفتے ایران نواز شیعہ سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین سے براہ راست ملاقاتین کرتے رہے ہیں۔