سعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ کے جدید وسائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جدہ میں کتابوں کی پانچویں بین الاقوامی نمائش جاری ہے۔ نمائش میں جدہ ضلع میں انسداد منشیات کی آگاہی مہم نے خصوصی توجہ حاصل کر لی ہے۔ آگاہی مہم کے دوران مملکت میں منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال میں آنے والے جدید ترین وسائل اور ذرائع کو پیش کیا گیا۔ سیکورٹی فورسز کے اہل کاروں نے مملکت کے فضائی، زمینی اور سمندری سرحدی راستوں کے ذریعے اسمگلنگ کی کوششیں ناکام بنانے کے دوران مذکورہ وسائل کا پتہ چلایا۔

مملکت میں منشیات کی اسمگلنگ کے واسطے مختلف نوعیت کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جدہ ضلع میں انسداد منشیات کے شعبے کے ایک ذمے دار عبدالجبار المالکی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "ان وسائل میں منشیات کی گولیاں اور کیپسول سرفہرست ہیں۔ ان کے علاوہ قرآن کے نسخوں، بجلی کے تاروں، گاڑیوں کے ہائیڈرولکس اور پِسٹنز اور اون کے دھاگوں کا بھی استعمال بکثرت ہوتا ہے۔ تاہم ریاض میں تربیتی ادارہ ایسی صلاحیتوں کے حامل افراد تیار کرنے کی قدرت رکھتا ہے جو اس حوالے سے نت نئے طریقوں کا پتہ چلانے اور کھوج لگانے میں ماہر ہوں"۔

المالکی کے مطابق منشیات کی تجارت کے حوالے سے شہرت رکھنے والے ممالک میں انسداد منشیات کے 25 سے زیادہ دفاتر ہیں جن کے ذریعے کسی بھی مشتبہ کارروائی کے بارے میں مسلسل اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

جدہ کی کتابوں کی نمائش میں انسداد منشیات کے ونگ میں مختلف نوعیت کی منشیات کے نمونے رکھے گئے ہیں۔ ان میں کیپٹاگون، حشیش، طبی طور پر ممنوعہ گولیاں اور ہیروئن شامل ہے۔ ان کے علاوہ منشیات کے عادی افراد کی جانب سے نشے کے لیے استعمال ہونے والی مختلف اشیاء بھی نمائش کے لیے پیش کی گئیں تا کہ لوگوں میں آگاہی اور شعور پیدا کی جا سکے۔ ان اشیاء میں جلنے کے نشانات کے حامل نشتر، قینچیاں اور چابیوں کے علاوہ نشے میں استعمال ہونے والی چھوٹے حجم کی ٹیوبز اور سافٹ ڈرنک کے کٹے ہوئے ڈبے بھی شامل ہیں جن کو نوجوان ہیروئن کے نشے میں استعمال میں لاتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جدہ میں انسداد منشیات کے ونگ کی جانب سے نمائش میں متعدد ایسی تالیفات بھی رکھی گئی ہیں جو اس میدان میں محققین اور دل چسپی رکھنے والے افراد کی ضرورت ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ اُس آگاہی پروگرام کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں جو گذشتہ پانچ برسوں سے سرکاری اسکولوں اور حکومتی سیکٹروں میں جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں