.

مقتدی الصدر نے ایران اور امریکا کی جنگ میں عراق کو گھسیٹے جانے سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں الصدری گروپ کے سربراہ مقتدی الصدر نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بھڑکنے اور اس جنگ میں عراق کو گھسیٹے جانے کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ الصدر کا یہ موقف پیر کے روز ایک ٹویٹ میں سامنے آیا۔

شیعہ رہ نما کی ٹویٹ عراق کے مغرب میں واقع ضلع القائم میں الحشد الشعبی کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی بم باری کے بعد سامنے آئی ہے۔ الصدر کے مطابق جو کوئی بھی اس جنگ میں عراق کو گھسیٹے گا وہ عراقی عوام کا دشمن ہو گا۔

عراقی رہ نما نے اپنی ٹویٹ میں واضح کیا کہ میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے بھڑکنے کے ساتھ نہیں ہوں اور نہ میں اس جنگ میں عراق کو گھسیٹے جانے کے حق میں ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں قوم کے بڑوں کے ایک سنجیدہ موقف کی ضرورت ہے تا کہ ہم عراق کو اس گھمسان کی لڑائی سے دور رکھ سیں جو ہر خشک و تر چیز کو کھا جائے گی ... ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ عراقی عوام اس جنگ کی اور اس میں عراق کو جھونکنے کی مذمت میں آواز اٹھائیں۔

مقتدی الصدر کے مطابق "ہمیں امن اور تعمیر نو کی ضرورت ہے.. عراق جنگ کا سامنا کرنے کا اہل نہیں ہے بلکہ وہ یہ چاہتا ہی نہیں ہے"۔

دوسری جانب عراق کی نگراں حکومت کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے قومی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ فیصلہ امریکی طیاروں کی جانب سے انبار صوبے میں عراقی حزب اللہ تنظیم کے دو صدر مراکز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ کارروائی میں تنظیم کے درجنوں ارکان ہلاک اور زخمی ہوئے۔

عبدالمہدی کے مطابق انہوں نے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کو آگاہ کر دیا کہ وہ عراق میں الحشد الشعبی کے مرکزی ٹھکانوں پر بم باری کو شدت سے مسترد کرتے ہیں۔ ادھر شیعہ مذہبی رہ نما عمار الحکیم کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی بم باری عراق کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عراقی حکومت سے اس حوالے سے ایک ٹھوس موقف اپنانے کا مطالبہ کیا۔