.

عراق: الحشد الشعبی کے قافلے پر فضائی حملے میں 6 افراد ہلاک

التاجی فوجی کیمپ کے قریب حملہ اتحادی فوج نے نہیں کیا: بیان جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں الحشد الشعبی ملیشیا نے التاجی کے علاقے میں فوجی کیمپ کے قریب ہونے والے فضائی حملے میں حرکت العراق الاسلامیہ "امام علی بریگیڈز" کے سکریٹری جنرل شبل الزیدی کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب رائیٹرز نیوز ایجنسی نے ایک عراقی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک عراقی مسلح گروپ کے قافلے پر فضائی حملے کے نتیجے میں 6 افراد مارے گئے۔

عراق کے سرکاری ٹی وی کے مطابق امریکا کے نئے حملے میں ہفتے کو علی الصبح بغداد کے شمال میں الحشد الشعبی کے ایک رہ نما کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری جانب امریکی قیادت میں داعش کے خلاف سرگرم بین الاقوامی اتحاد نے التاجی کے علاقے میں کسی بھی کارروائی کی تردید کی ہے۔

التاجی کے علاقے میں کی جانے والی کارروائی جمعے کو علی الصبح بغداد کے ہوائی اڈے پر ہونے والے اُس حملے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آئی ہے جس میں تہران نواز الحشد الشعبی کا نائب سربراہ اور عراق میں وسیع نفوذ کا حامل ایرانی جنرل قاسم سلیمانی مارا گیا تھا۔

ابھی تک سرکاری ٹی وی نے نشانہ بننے والے رہ نما کی شناخت کا اعلان نہیں کیا۔ اس دوران اے ایف پی نیوز ایجنسی نے ایک سیکورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے پہلی مرتبہ بات کرتے ہوئے کہا "ان کا ملک دنیا کے سرکردہ دہشت گرد قاسم سلیمانی کا صفایہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے"۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے ذاتی طور پر پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ کو ہلاک کرنے کا حکم دیا۔ امریکا کے پاس ایسے منصوبوں اور اہداف کی لمبی فہرست ہے جس پر وہ [قاسم سلیمانی] کسی بھی وقت عمل درامد کر سکتا تھا۔

اپنے خطاب میں امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ جنگ شروع نہیں بلکہ روکنا چاہتے ہیں۔ امریکا ایرانی عوام کا قدر دان ہے۔ ہم ایرانی حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں ایران کی حکومت کے جارحانہ اقدامات، خصوصا اپنے ہمسایہ ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پراکسی جنگجوؤں کا استعمال، اب ختم ہونا چاہیے۔

ٹرمپ کے مطابق قاسم سلیمانی نے امریکیوں کی ایک بڑی تعداد کو قتل کیا اور انہیں نقصان پہنچایا، وہ امریکی سفارت کاروں اور فوجیوں پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔