.

ایران : خامنہ ای سے سبک دوشی کا مطالبہ کرنے والے مہدی کروبی کا بیٹا گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے پیر کے روز سبز تحریک کے سربراہ مہدی کروبی کے بیٹے حسین کروبی کو گرفتار کر لیا۔

سحام نيوز ویب سائٹ کے مطابق یہ گرفتاری مہدی کروبی کی جانب سے ایرانی رہبر اعلی کو ایک خط بھیجے جانے کے دو روز بعد عمل میں آئی ہے۔ خط میں کروبی نے خامنہ ای سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے منصب سے سبک دوش ہو جائیں کیوں کہ وہ یوکرین کے مسافر طیارے کو مار گرائے جانے کے واقعے کے ساتھ درست طور پر نہیں نمٹے۔ واضح رہے کہ مہدی کروبی 2011 سے اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتے کے روز ایک اعلان میں یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ اس اعتراف کے بعد بین الاقوامی سطح پر شدید رد عمل اور مذمتی بیانات سامنے آئے۔

ہفتے کے روز اپنے خط میں مہدی کروبی نے خامنہ ای کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ قیادت کی صفات نہیں رکھتے لہذا آپ پر لازم ہے کہ سبک دوش ہو جائیں ... کوئی نہیں جانتا کہ مسافر طیارہ گرائے جانے کی صبح بطور مسلح افواج کے کمانڈر آپ کہاں تھے ... آپ نے کوئی بیان کیوں نہیں دیا ... 3 روز تک انکار اور جھوٹ کا سلسلہ کیوں جاری رہا ؟".

کروبی نے مزید لکھا کہ "یہ کوئی پہلا اسکینڈل نہیں جس میں آپ پر براہ راست ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی اسکینڈل ہیں ... آپ نے کسی معاملے میں بھی تحقیقات کا آغاز نہیں کیا"۔

کروبی نے اختتام پر لکھا کہ "میرے نزدیک آپ حکمت، شجاعت اور قیادت کے لیے مطلوب انتظامی طاقت سے محروم ہیں لہذا آپ پر لازم ہے کہ سبک دوش ہو جائیں"۔

کروبی کے خط سے چند گھنٹے قبل تہران میں امیر کبیر یونیورسٹی کے سامنے طلبہ نے مظاہرہ کیا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مظاہرے میں شریک افراد کی ترداد 7 لاکھ کے قریب تھی۔

اس موقع پر مظاہرین نے ایرانی رہبر اعلی کی مذمت میں نعرے لگائے اور ان سے رخصت ہو جانے کا مطالبہ کیا۔ طلبہ نے متعدد عبارتوں کے ساتھ نعرے بازی کی جن کا مفہوم تھا کہ "نظام جرائم کر مرتکب ہے اور خامنہ ای اس کا جواز پیش کرتے ہیں" ، "ولی فقیہ مردہ باد" اور "قاتل اور اس کی حکمرانی باطل ہے"۔

یوکرین کے مسافر طیارے کے مار گرائے جانے کے پس منظر میں ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ اصفہان اور شیراز تک پہنچ گیا۔

مظاہرین نے قاسم سلیمانی کی تصاویر بھی پھاڑیں جو 3 جنوری کو بغداد میں امریکی حملے میں مارا گیا تھا۔

بعض وڈیو کلپوں میں باسیج فورس کو تہران میں طلبہ کے ہجوم کو گھیرے میں لیے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ہفتے کے روز ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری ایک بیان میں اعتراف کیا گیا تھا کہ یوکرین کا مسافر طیارہ میزائل کے ذریعے مار گرایا گیا۔ یہ اعتراف تہران پر بیرونی دنیا کے دباؤ کے بعد سامنے آیا۔