.

امریکا عراق سے نکل جائے ورنہ طاقت سے نکالیں گے: سربراہ عراقی ملیشیا

عصائب ملیشیا کی عراق میں امریکیوں کو ایک بارپھر دھمکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ایرانی پروردہ ایک شدت پسند شیعہ عسکری گروپ عصائب اھل الحق کی طرف سے ایک بار پھر امریکی فوج کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے امریکی فوج کو عراق سے نکلنے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ چینل کے مطابق عصائب اھل الحق ملیشیا کے رہ نما قیس خزعلی نے عراق میں امریکیوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

خزالی نے "العھد" چینل پر نشر کی گئی ایک ویڈیو ریکارڈنگ میں کہا ہے کہ "آئندہ جمعہ عراق کی خودمختاری کے دفاع کا دن ہوگا"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم امریکا کو اپنے ملک سے بے دخل کرنے اور عراق کی سرزمین کو ناپاک امریکیوں کے وجود سے پاک کرکے رہیں گے"۔

عراقی ملیشیا کے لیڈر نے امریکا اور اس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خصوصی پیغام بھیجا جس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ "عراق کے عوام غیور ہیں جن پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا"۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ "اگر امریکا اپنی افواج عراق سے نہیں نکالتا اورعراق کے سیاسی اور عوامی فیصلے کو مسترد کرتا ہے تو ہم امریکیوں کو دوسرے طریقے سے نکالنے سے پوری طرح تیار ہیں۔ ہم امریکا کو عراق چھوڑنے پرمجبور کردیں گے۔

قیس خزعلی کا کہنا تھا کہ امریکا نے عراق میں اپنے اپنے مذموم عزائم ظاہر کردیے ہیں۔ جب عراق کی پارلیمنٹ کی طرف سے امریکی انخلاء کا مطالبہ کیا گیا تو امریکا نے اسے مسترد کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکا عراق کی مدد کرنے نہیں بلکہ اس پرقبضہ کرنے کے لیے آیا ہے۔

خیال رہےکہ تین جنوری کو بغداد ہوائی اڈے کے قریب امریکی فوج کے حملے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی الحشد ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس سمیت کئی جگجو ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد عراق اور ایران کے امریکا کے ساتھ تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے رد عمل میں عراقی پارلیمنٹ نے امریکا کو عراق سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔