.

حزب اللہ کے کمانڈر کا قتل لبنانی ملیشیا کی سیکورٹی میں شگاف کا عکّاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی حلقوں میں دو روز سے حزب اللہ ملیشیا کے کمانڈر علی یونس کی ہلاکت کا چرچا ہے۔ یونس کو ہفتے کی دوپہر لبنان کے جنوبی قصبے جبشیت میں اُس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں ایک ساتھی کے ہمراہ سفر کر رہا تھا۔ حملے میں یونس کے سر میں گولیاں لگیں اور وہ اسی وقت دم توڑ گیا۔ یونس کا ساتھی واقعے میں زخمی ہو گیا تھا جس کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ حزب اللہ ملیشیا نے آدھی شب کے بعد سرکاری طور پر جاری بیان میں تنظیم میں یونس کے عہدے کا ذکر نہیں کیا۔ بیان میں اسے "شہید مجاہد" قرار دینے پر اکتفا کیا گیا۔ ادھر ایرانی حکام کی سرکاری ترجمان فارس نیوز ایجنسی نے اگلے روز اعلان کیا کہ یونس کو نامعلوم افراد نے ہلاک کیا .. اور وہ دشمن کے ایجنٹس اور جاسوسوں کے تعاقب کا ذمے دار تھا۔ بعد ازاں اس خبر کو ہٹا دیا گیا۔

واضح رہے کہ لبنان کی ایک نجی خبر رساں ایجنسی "سینٹرل نیوز ایجنسی" نے سب سے پہلے ہفتے کی شام حزب اللہ کے کمانڈر علی یونس کے قتل کی خبر دی۔ خبر کو نشر کرنے میں عمومی سیکورٹی طریقہ اپنایا گیا اور کہا گیا کہ "آج ہفتے کے روز دوپہر میں جبشیت کے قصبے میں ایک گاڑی سے ایک شہری (علی یونس) کی خون میں لت پت لاش ملی۔ لاش پر گولیوں اور چاقو سے وار کے نشانات پائے گئے ہیں۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے مختلف سیکورٹی اداروں کے اہل کار جائے حادثہ پر پہنچ چکے ہیں۔ اس دوران قتل کی کارروائی میں ملوث ہونے کے شبہے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرنے والے باخبر حلقوں نے بتایا کہ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے وہ حزب اللہ کے لیے حسّاس "سیکورٹی زون" کی حیثیت رکھتا ہے۔ لہذا اس میں آسانی سے دراندازی نہیں کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ جس علاقے میں یونس کو موت کے گھاٹ اتارا گیا وہاں زیادہ جھاڑیاں نہیں پائی جاتی ہیں۔ یہ علاقہ 15 کلو میٹر کی حدود میں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ علاقے میں داخل ہونے والی کوئی بھی گاڑی سیکورٹی کیمروں کی جانب سے زیر نگرانی ہو گی۔

مذکورہ حلقوں کے مطابق واقعے کے تین منظرنامے ہو سکتے ہیں :

پہلا منظرنامہ : یہ غالبا سب سے کمزور امکان کا حامل ہے۔ اس کے مطابق علی یونس کو ممکنہ طور پر ذاتی وجوہات کی بنا پر قتل کیا گیا۔ یہ جرم پرانی دشمنی یا ڈالروں کی تبدیلی سے متعلق ہے۔

دوسرا منظرنامہ : وہ یہ کہ کارروائی کا اصل ہدف علی یونس نہیں بلکہ وہ شخص تھا جو گاڑی میں علی یونس کے ساتھ زخمی ہوا۔ اسے بعد میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس منظرنامے کو جو بات تقویت دیتی ہے وہ یہ کہ علی یونس حزب اللہ میں کوئی نمایاں حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ایک عام مشن رکھنے والا تربیت یافتہ عسکری "عنصر" تھا۔

تیسرا منظرنامہ : وہ یہ کہ علی یونس اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا نشانہ بنا۔ یہ امکان گذشتہ پیر کے روز اسرائیلی اخبار "يديعوت احرونوت" کی جانب سے شائع کردہ خبر سے میل کھاتا ہے۔ اخبار کے مطابق اسرائیل کے اندر ایک عسکری آپریشن کے نتیجے میں اسرائیلی انٹیلی جنس میں کام کرنے والی ایک لڑکی کو گرفتار کیا گیا۔ اس لڑکی کے بارے میں انکشاف ہوا تھا کہ وہ ایک لبنانی شخص (علی) کے ساتھ رابطے میں ہے۔ لڑکی اور علی کا تعارف فیس بک کے ذریعے ہوا۔ اس دوران مذکورہ لڑکی نے اسرائیلی فوج کے زیر انتظام فوجی اڈوں کی تصاویر اور معلومات اس لبنانی شخص کو فراہم کیں۔

لہذا ان منظرناموں بالخصوص دوسرے اور تیسرے سیناریو کا خلاصہ یہ ہے کہ باخبر حلقوں کے مطابق حزب اللہ کو بھرپور طریقے سے سیکورٹی بریچ یعنی سیکورٹی میں شگاف کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی ایک ایسے "ادارے" کی طرف سے انجام دی گئی جو اُن علاقوں سے متعلق صحیح ترین معلومات کی جان کاری رکھتا ہے جہاں علی یونس متحرک رہتا تھا۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی کی جانب سے دی گئی خبر میں حزب اللہ میں علی یونس کی ذمے داری کا بھی ذکر کیا گیا کہ وہ جاسوسوں اور دشمن کے ایجنٹوں کا پتہ چلاتا تھا۔ عام طور سے حزب اللہ کی طرف سے ایسی کسی بھی قاتلانہ کارروائی میں مرنے والے عہدے دار کی ذمے داری کا ذکر نہیں کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ لبنانی حلقے گذشتہ دو ہفتوں سے اسرائیلی ایجنٹ عامر الفاخوری کی رہائی کی خبر میں مشغول ہیں۔ وہ اسرائیلی قبضے کے دنوں میں جنوبی لبنان میں الخیام جیل کا وارڈن تھا۔ لبنان میں فوجی عدالت نے اس کی رہائی کا فیصلہ جاری کیا۔ الفاخوری کو گذشتہ برس ستمبر میں لبنان میں گھومتے کے دوران گرفتار کر لیا گیا تھا۔ وہ امریکا سے لبنان پہنچا تھا۔

لبنانی عوامی حلقوں نے سوشل میڈیا پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے کہ حزب اللہ ملیشیا الفاخوری کی رہائی روکنے کے لیے حرکت میں کیوں نہیں آئی۔ اس پر حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے امریکا پر یہ الزام عائد کیا کہ اس نے الفاخوری کی رہائی کے لیے مداخلت کی اور ایک نجی طیارے کے ذریعے اسے لبنان سے باہر نکالا۔