سعودی عرب میں کرفیو کے دوران نقل وحرکت کے لیے مجاز افراد کی دوبارہ چھان بین

کرفیو کی خلاف ورزی پر 10 ہزار ریال جرمانہ اور قید کی سزا ہوسکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ کرونا کی وجہ ے ملک کے مختلف شہروں میں لگائے گئے کرفیو کے دوران مستثنیٰ قرار دیے گئے ملازمین کو جاری کردہ اجازت ناموں پر نظر ثانی اور ان کی تجدید کی جا رہی ہے تاکہ مزید کم سے کم لوگوں کو کرفیو کے دوران باہر جانے کی اجازت دی جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر کرفیو کےدوران ضروری ذمہ داریاں انجام دینے والے افراد کی تعداد مزید کم کرنے کے لیے انہیں جاری کردہ اجازت ناموں پر نظر ثانی اور ان کی تجدید کا فیصلہ کیا ہے۔

کرفیو کے دوران کام جاری رکھنے کے مجاز اداروں اور کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کرفیو کے اوقات میں اپنے کم سے کم لوگ باہر بھیجیں۔ کرفیو کے دورانیے میں کام کرنے والے ہر فرد کے پاس وزارت داخلہ کی طرف سے منظور شدہ اجازت نامہ ہونا چاہیے اور اس کا اہتمام متعلقہ کمپنی یا ادارے کو کرنا ہوگا۔

جہاں تک سعودی عرب کے سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی کرفیو کے دوران ڈیوٹی کا تعلق ہے تو ان کی موومنٹ کے لیے گاڑی کے ڈرائیور کے پاس اجازت نامہ کافی ہے۔ اگر اسٹاف نے بسوں کے ذریعے سفر کرنا ہے تو کسی بھی ٹرانسپورٹ بس یا گاڑی پر سواریوں کی تعداد 50 فی صد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ بس یا دوسری گاڑی کے ڈرائیور کے پاس کرفیو کے دوران باہر جانے کے اجازت نامے اور روٹ پرمٹ سمیت تمام ضروری دستاویزات لازمی ہیں۔

وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ کرفیو کے اوقات میں اگر کوئی غیر مجاز شخص سڑکوں پرگھومتا پکڑا گیا تو اسے 10 ہزار ریال جرمانہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اسے جیل کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ سعود عرب کے دارالحکومت الریاض میں آج سوموار کو سہ پہر تین بجے سے کرفیو نافذ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں