.

یمن: نمازیوں کے سامنے حوثیوں کے ہاتھوں امامِ مسجد کا قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی حوثی ملیشیا نے ذمار شہر کے مغرب میں واقع ایک گاؤں کی مسجد کے امام اور خطیب کو موت کی نیند سلا دیا۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ جمعے کے روز مکعد الامحال نامی گاؤں میں پیش آیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا کے درجنوں مسلح ارکان نے نماز جمعہ کے وقت مسجد پر دھاوا بولا اور نمازیوں کے سامنے مسجد کے امام اور خطیب "شوقی جابر محمد رفعان" کو قتل کر ڈالا۔

مقامی نیوز ویب سائٹس نے بتایا کہ حوثیوں کے غنڈوں نے پہلے نمازیوں پر اندھادھند فائرنگ کی اور پھر امام تک پہنچ کر براہ راست اس کے سینے کوگولیوں سے چھلنی کر دیا۔

مقامی آبادی کے مطابق حوثیوں نے امام کو مسجد میں تراویح کی نماز نہ روکنے اور غریب گھرانوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی تقسیم سے متعلق سرگرمیاں جاری رکھنے پر موت کے گھاٹ اتارا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل حوثی ملیشیا نے عتمہ ضلع کے مرکزی شہر الثلوث میں ایک مسجد اور فلاحی ادارے پر دھاوا بول دیا تھا۔ ملیشیا کے مسلح ارکان مسجد کے امام و خطیب شیخ بشیر علی البحری کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

یاد رہے کہ 2014 میں ذمار صوبے پر حوثی ملیشیا کے قبضے کے بعد سے باغیوں نے درجنوں مساجد اور تعلیمِ قرآن کے مراکز کو دھاؤوں کا نشانہ بنایا۔ اس دوران مساجد کے آئمہ اور خطیبوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ علاوہ ازیں ان کے گھر والوں اور عزیز و اقارب میں شامل سیکڑوں دیگر افراد بھی گرفتاریوں اور تشدد کی کارروائیوں کی لپیٹ میں آئے۔