.

سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کمیشن کا 117 کیسز کی تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے ماہ صیام کے دوران کرپشن سے متعلق ۱۱۷ فوج داری نوعیت کے کیسز کی براہ راست تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق رمضان المبارک کے مہینے میں انسداد بدعنوانی کمیشن نے مالی اور انتظامی کرپشن کے ایک سو سترہ کیسز کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

رواں ماہ شروع کی جانے والی تحقیقات میں پہلا کیس ایک سیکیورٹی کمپنی کےملازمین کا ہے جو حکومت کی طرف سے نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے میں ہیر پھیر میں ملوث پائے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی کمپنی کے دو اہلکاروں نے کرونا وبا سے متاثرہ نجی شعبے کے ملازمین کی بحالی کے پروگرام سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اورغیر مسحق افراد کا ڈیٹا اس شرط پر فراہم کیا کہ انہیں ملنے والی رقم کا پچاس فی صد سیکیورٹی کمپنی کے ان ایجنٹوں کو اور باقی پچاس فی صد نجی شعبے کے ملازمین کو ملے گا۔ اس جعل سازی کے سامنےآنے کے بعد ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔

ایک دوسرے کیس میں جدہ میں ہوٹلوں کے لیز پرلینے کے معاہدے میں رشوت وصولی کا الزام ہے۔ اس میں ۱۳ ملزمان کے خلاف رشوت وصولی اور دھوکہ دہی کے الزام میں کارروائی ہو رہی ہے۔

تیسرا کیس نجی شعبے کے ملازمین اور وزارت صحت کےاہلکاروں پرمشتمل ہے۔ اس کیس میں بتایا گیا ہے کہ نجی شعبے کے متعدد افراد نے وزارت صحت کے اہلکاروں کو ہوٹلوں میں قرنطینہ مراکز قائم کرنے پر رشوت کی پیش کش کی تھی۔

چوتھے کیس میں زکواۃ اور انکم ٹیکس کی جنرل اتھارٹی کے دو ملامین سمیت پانچ افراد کےگھر گھومتا ہے جن پر رشوت کے لین دین کا الزام ہے۔