لیبیا میں بحران کے حل کے لیے علاقائی مداخلت بند کرنا ہوگی: قرقاش
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ فوری اور جامع جنگ بندی اور سیاسی عمل کی طرف واپسی کے بغیر لیبیا کے منظر نامے پر کوئی حقیقی پیشرفت نہیں ہوسکتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا میں جاری بحران کے حل کے لیے علاقائی مداخلت کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔
انہوں نے ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ٹویٹس انور قرقاش نے کہا کہ لیبیا کو اس وقت تک محفوظ اور خوشحال ملک کے طور پر آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملے گا جب تک جب تک کہ متحارب فریقین معمولی کامیابی حاصل کرنے کے لیے عارضی فتح کے سراب کے پیچھےبھاگ رہے ہیں۔ انہیں حقیقی جنگ بدی کی طرف پلٹنا ہوگا۔
نجدد الموقف الواضح لدولة الإمارات من الأزمة الليبية والمتصل بموقف المجتمع الدولي - فلا يمكن إحراز أي تقدم حقيقي على الساحة الليبية دون وقف فوري وشامل لإطلاق النار والعودة إلى مسار العملية السياسية، ولا بد أن يتوقف التصعيد الإقليمي لتحقيق ذلك.
— د. أنور قرقاش (@AnwarGargash) May 19, 2020
اماراتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور کا کہنا تھا کہ لیبیا میں مستقل استحکام لانے کے لیے سیاسی عمل کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
اماراتی وزیر کی طرف سے لیبیا سے متعلق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت جنگ بندی کی شرائط پرعمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت بیرون ملک سے اسلحہ کے حصول کے ساتھ ساتھ متنازع جنگجوئوں کو بھی مدد کے لیے جمع کرہی ہے۔
منگل کو شامی آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس کے مطابق شام میں قائم عسکریت پسندوں کا ایک نیا دستہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے طرابلس پہنچ گیا ہے۔