.

شمال مغربی شام میں جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ روسی طیاروں کے فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں روسی جنگی طیاروں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب حماہ صوبے کے دیہی علاقوں پر فضائی حملے کیے۔ روس اور ترکی کے درمیان طے پانے والے فائر بندی کے معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے بعد شمالی شام میں کم جارحیت والے علاقوں میں یہ پہلا حملہ ہے۔

روسی لڑاکا طیاروں نے 4 حملے کیے۔ اس دوران حماہ کے شمال مغربی دیہی علاقے میں القرقور اور سہل الغاب کے بیچ واقع ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق کارروائی میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے واضح کیا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہونے والے حملوں میں حماہ، ادلب اور لاذقیہ کے تکون کو نشانہ بنایا گیا جہاں شدت پسند عناصر پھیلے ہوئے ہیں۔

اسی دوران ادلب کے جنوبی دیہی علاقے میں جبل الزاویہ سے مقامی لوگوں کی نقل مکانی دیکھی جا رہی ہے۔ ان لوگوں کو آئندہ فوجی آپریشن کا شدید اندیشہ ہے۔ گذشتہ دنوں کے دوران یہاں بشار کی فوج، ترکی کی فوج اور مسلح گروپوں کی جانب سے عسکری کمک کی موجودگی کا سلسلہ جاری رہا۔ علاوہ ازیں شامی حکومت کی فوج کی جانب سے میزائلوں سے بم باری بھی سامنے آئی۔ المرصد کے مطابق شامی اپوزیشن گروپوں نے ادلب کے دیہی علاقے میں جبل الزوایہ کے مشرقی علاقے کو عسکری علاقہ قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ فائر بندی کے معاہدے پر رواں سال مارچ میں دستخط کیے گئے تھے۔ یہ پیش رفت روسی اور ترک صدور کے درمیان 6 گھنٹوں سے زیادہ جاری رہنے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی۔