ایران میں 40 فی صد آبادی غربت کا شکار، خامنہ ای کا کثرت اولاد پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے ملک میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافے کے مضمرات پر انتباہ کے بعد ایرانی وزیر داخلہ عبد الرضا رحمانی فضلی نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی ایکسپیڈیسی کونسل کا کہنا ہےکہ رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ ملک میں نوجوان آبادی میں اضافے کی کوششیں آبادیاتی پلان کے مطابق نہیں ہیں۔اتوار کے روز قومی سماجی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالرضا رحمانی فضلی نے نے ایکسپیڈیسی کونسل کی رپورٹ کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن کہا کہ ایک نیا ورکنگ گروپ اس معاملے پر عمل کرے گا۔

ایرانی وزیر داخلہ کے مطابق ورکنگ گروپ سہ ماہی رپورٹس پیش کرنے کے ساتھ ایران کی آبادی کے بارے میں "رہبر انقلاب کے خدشات" کو دور کرنے کے لیے کام کرے گا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ خامنہ ای نے گذشتہ جمعرات کو ایک تقریر میں ایران کے آبادی کی عمر بڑھنے سے متعلق بیان میں اس معاملے پر اپنی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ہمیں موصولہ دستاویزی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ بہت بُری خبر ہے۔

حالیہ برسوں میں ایرانی سپریم لیڈر نےایران کی آبادی کو 8 کروڑ 30 لاکھ سے بڑھا کر15 کروڑ تک لے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ہرکنبے میں کم سے کم پانچ بچے ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے پانچ بچے اور 13 پوتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے 25 پوتے ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں