.

لبنان میں اقتصادی بحران شدید تر ، لوگ اپنا سونا فروخت کرنے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں کئی ماہ سے بدترین اقتصادی بحران دیکھا جا رہا ہے۔ اس دوران مقامی کرنسی اپنی آدھی سے زیادہ قیمت کھو چکی ہے اور افراطِ زر کا تناسب بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کی تقریبا آدھی آبادی غربت کی لکیر کے نیچے پہنچ گئی ہے۔

دارالحکومت بیروت کے قلب میں زیورات کی دکانوں پر شہریوں کا رش نظر آ رہا ہے جو اپنے پاس موجود سونے کا مختلف قسم کا زیور فروخت کرنے یا اسے گروی رکھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس طرح وہ نقدی حاصل کر کے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔

زیورات کی دکانوں پر لگے بینروں پر تحریر ہے کہ "ہم سونا خریدتے ہیں"۔ اس کا مقصد فروخت کے خواہش مند عوام کو اپنی جانب راغب کرنا ہے۔

لبنانی دارالحکومت میں ایک سُنار احمد تقی کہتے ہیں کہ ان دنوں ان کی دکان پر ایک دن گزارنا ڈپریشن کا شکار ہونے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "لوگ اپنا قیمتی سونا بیچ رہے ہیں تا کہ ہسپتالوں میں علاج کے بلز، اسکولوں کی فیسیں یا پھر گھروں کے کرائے ادا کر سکیں .. اس کے سوا عوام کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے"۔

اس وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت 1507.5 لبنانی لیرہ کے برابر ہے۔ پیر 15 جون کو زیادہ تر کرنسی ایکسچینجز بند ہو گئے اور امریکی ڈالر کے ضرورت مند تاجر ایک ایکسچینج سے دوسرے ایکسچینج مارے مارے پھرتے رہے۔

لبنان میں ورکرز یونین کا کہنا ہے کہ حالیہ بحران کے دوران ڈھائی لاکھ کے قریب افراد اپنی ملازمتوں اور روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ لبنانی کرنسی لیرہ کی قدر میں 60% کمی واقع ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں