.

عرب دنیا مفت کا مال نہیں کہ بنا سزا علاقائی مداخلت کے لیے دستیاب ہو: قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہماری عرب دنیا اور ان کے دارالحکومتوں کو طشتری میں رکھ کر علاقائی سطح پر مداخلت کے لیے پیش کر دیا جائے اور اس پر کوئی احتساب اور سزا بھی نہ ہو۔

جمعرات کے روز اپنی ٹویٹ میں قرقاش نے مزید کہا کہ "ملیشیاؤں اور اجرتی جنگجوؤں کا زمانہ بیت جانا نا گزیر ہے۔ جو کوئی بھی اپنی سیادت میں حد سے تجاوز کرے گا اور علاقائی قوتوں کو کھینچ کا لائے گا تا کہ عرب دنیا کو کمزور کر سکے، تاریخ اس کا کڑا احتساب کرے گی"۔

اس سے قبل انور قرقاش نے منگل کے روز اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ برادر ملک لیبیا میں سرت شہر کے اطراف بجنے والا طبلِ جنگ خطر ناک پیش رفت اور سنگین انسانی اور سیاسی دور رس اثرات کا پیش خیمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امارات میں رہتے ہوئے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ فائر بندی کو فوری طور پر ممکن بنایا جائے اور دانش مندی کو غالب رکھا جائے۔ ساتھ ہی لیبیا کے فریقوں کے بیچ بات چیت شروع کی جائے۔

عالمی برادری کی جانب سے فائر بندی، سیاسی مذاکرات کی طرف واپسی، اعلانِ قاہرہ اور لیبیائی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی طرف سے حالیہ کوششوں کے باوجود وفاق حکومت کئی بیانات میں یہ باور کرا چکی ہے کہ وہ سرت شہر کی جانب پیش قدمی پر ڈٹی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ لیبیا کی فوج سرت سے دست بردار ہونے یا وہاں سے انخلا کو یکسر مسترد کر چکی ہے.