.

شام : دیرالزور میں روسی فوج کا میجر جنرل بم دھماکے میں ہلاک ، دو اہلکار زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی صوبہ دیرالزور میں ایک بارودی ڈیوائس کے دھماکے میں روسی فوج کا ایک میجر جنرل ہلاک اور دو فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔

روسی وزارت دفاع کے حوالے سے خبررساں ایجنسیوں نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ روسی فوج کے قافلے کو مشرقی شہر دیرالزور کے نزدیک بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔روسی قافلہ ایک انسانی آپریشن کے بعد واپس آرہا تھا۔

روسی خبررساں ایجنسیوں انٹر فیکس ، ریا نووستی اور تاس نے بتایا ہے کہ بم دھماکے میں تین فوجی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ان میں ایک میجر جنرل کے رینک کا سینیر فوجی مشیر طبی امداد کے لیے اسپتال لے جاتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا ہے۔ روس کی طرف سے اس کے علاوہ واقعے کی مزید کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ شام میں اس وقت ہزاروں روسی فوجی تعینات ہیں اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ باغی گروپوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ شام کے مختلف علاقوں میں تعینات ہیں۔

روس نے 2015ء میں صدر بشارالاسد کا نظام بچانے کے لیے شام میں فوجی مداخلت کی تھی۔ روس اور ایران کی فوجی مداخلت اور باغی گروپوں کے خلاف طویل خونیں لڑائی کی بدولت ہی بشارالاسد نہ صرف اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب رہے ہیں بلکہ ان کی فوج نے چھن جانے والے بیشتر علاقے بھی باغی گروپوں سے واپس لے لیے ہیں اور وہاں حکومت کی عمل داری قائم کر لی ہے۔

اس وقت روس اور ترکی کے فوجی دستے جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت باغیوں کے زیر قبضہ شامی صوبہ ادلب میں گشت کررہے ہیں۔ جولائی میں ان کی ایک مشترکہ گشتی پارٹی پر سڑک کے کنارے نصب بم سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں تین روسی اور متعدد ترک فوجی زخمی ہوگئے تھے۔