.

لبنان: معروف سنی عالم دین کا بیروت میں فائرنگ کے بعد تشدد کے واقعات کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سرکردہ سنی عالم دین نے دارالحکومت بیروت میں فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد خبردار کیا ہے کہ ملک میں تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

مفتی اعظم شیخ عبداللطیف دریان نے وزیر داخلہ جنرل محمد فہمی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’شہریوں کو چوکنا کیا جانا چاہیے،وہ کسی مسلح تنازع میں نہ الجھیں کیونکہ ہتھیاروں سے کسی بھی تنازع کو حل نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

بیروت کے سنی آبادی والے علاقے الطارق الجدیدہ میں سوموار کی شب مسلح جھڑپ میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لڑائی میں مشین گنوں اور راکٹ گرینیڈوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

ایک عسکری ذریعے کا کہنا ہے کہ متحارب افراد کے درمیان ذاتی نوعیت کا تنازع اس مسلح جھڑپ کا سبب بنا ہے۔

لبنان کے شمالی علاقے میں بھی گذشتہ روز ایک مسلح جھڑپ ہوئی تھی اور فوج کو مداخلت کرنا پڑی ہے۔وادی بقاع میں واقع شہر بعلبک میں تشدد کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے اور وہاں دیرینہ دشمنی کی بنا پر ایک شخص کو قتل کر دیا گیا ہے۔

لبنان میں امن وامان کی صورت حال پہلے ہی مخدوش ہے اور اس طرح کے واقعات سے صورت حال مزید ابتر ہوسکتی ہے۔ بیروت اور دوسرے شہروں میں گذشتہ کئی مہینوں سے ارباب اقتدار اور افسر شاہی کی بد عنوانیوں ، شہری خدمات کے پست معیار اور امن وامان کی ابتر صورت حال کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں جبکہ ملک کا دیوالا نکلنے کو ہے اور قومی معیشت بیٹھ چکی ہے۔

بیروت میں گذشتہ ماہ بندرگاہ پر تباہ کن دھماکے کے بعد صورت حال مزید ابتر ہوچکی ہے۔اس دھماکے کے ردعمل میں وزیراعظم حسان دیاب نے اپنی کابینہ سمیت استعفا دے دیا تھا۔ان کی جگہ نامزد وزیراعظم مصطفیٰ ادیب نے ابھی تک اپنی کابینہ تشکیل نہیں دی ہے۔