.

صنعا ہوائی اڈے کی بندش تیل کی اربوں ریال آمدنی چھپانے کی مجرمانہ حوثی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ دوسری طرف یمن کی آئینی حکومت نے ہوائی اڈے کی بندش کو تیل کی فروخت کے ذریعے غیرقانونی طریقے سے کمائے گئے اربوں ریال کو چھپانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

حوثی ملیشیا کے ہوائی اڈے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے یمنی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اقدام 50 ارب ریال سے زائد تیل چوری کی آمدنی کو چھپانے کی مذموم کوشش ہے۔ حالانکہ تیل کی مذکورہ آمدنی یمن میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مختص کیا گیا تھا۔

منگل کے روز ایک بیان میں حوثی ملیشیا نے اقوام متحدہ کی پروازوں سمیت ہوائی اڈے کی امدادی اور انسانی پروازوں کی بندش کا اعلان کیا تھا۔ یمنی وزارت خارجہ نے ہوائی اڈے کی بندش کی شدید مذمت کی ہے۔

حوثی حکومت میں وزیر ٹرانسپورٹ زکریا الشامی نے دارالحکومت میں ایک پروگرام کے دوران اعلان کیا کہ بدھ سے صنعا کے ہوئی اڈے کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو اقوام متحدہ کی امداد کی آمدورفت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی انسانی ہمدردی کی تنظیموں جیسے ریڈ کراس ، ڈاکٹر ود آئوٹ بارڈرزاور دیگر امدادی تنظیمیں صنعا کے ہوائی اڈے کو اپنی امدادی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے 2014 میں شمال میں دارالحکومت صنعا کا کنٹرول سنبھال لیا اور وہاں کی تمام اہم تنصیبات اور ریاستی اداروں پر قبضہ کر لیا تھا۔