.

کسی بھی معاہدے سے قبل اجرتی جنگجوؤں اور تُرکوں کا نکالا جانا شرط ہے: لیبیائی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے شرط عائد کی ہے کہ بحران کے حل کے واسطے کسی بھی تجویز یا منصوبے کے ضمن میں پہلے اجرتی جنگجوؤں کی منتقلی کو روکا جائے۔ فوج نے ترک فورسز کی موجودگی میں سرت اور الجفرہ میں ہتھیار ڈالنے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سے قبل منگل کے روز العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع نے بتایا تھا کہ لیبیا کا ایک وفد بدھ کے روز مصر روانہ ہو رہا ہے۔ یہ وفد سرت کے تزویراتی شہر کے حوالے سے تجویز لے کر قاہرہ جا رہا ہے۔

لیبیا کی فوج کے سینئر عہدے دار میجر جنرل خالد المحجوب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ مسئلہ معاہدوں پر دستخط کرنا نہیں بلکہ ان کی شقوں پر عمل درامد کو یقینی بنانا ہے۔ ایسے کئی سمجھوتے ہیں جن کی بنیادی شقوں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ ابھی تک مسلح ملیشیاؤں کو تحلیل کر کے ان سے اسلحہ نہیں لیا گیا۔ یہ چیز امن و استحکام اور اداروں کے قیام سے روکنے والی ہے۔ آج غیر ملکی اجرتی جنجگوؤں اور ترک حملہ آوروں کے سبب لیبیا کے مسائل کا حجم بڑھ گیا ہے۔ ان کے علاوہ ملک کو بیچجنے والے سمجھوتے بھی مشکلات کو جنم دینے والا امر ہے۔

واضح رہے کہ مراکش کے شہر بوزنیقہ میں لیبیا کی ریاستی سپریم کونسل اور لیبیائی پارلیمنٹ کے وفود کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے۔ اس کے نتائج اور اختلافات کو انتہائی پردے میں رکھا جا رہا ہے۔

ادھر لیبیا کا ایک وفد سرت شہر کے حوالے سے منصوبہ لے کر آج قاہرہ پہنچ رہا ہے۔ وفد میں لیبیا کی پارلیمنٹ اور ریاستی سپریم کونسل کے ارکان کے علاوہ فوجی عہدے دار بھی شامل ہیں۔

اس منصوبے میں موجودہ عرصے میں سیاسی بات چیت کے لیے اجلاسوں کو توسیع نہ دینا اور دسمبر 2021ء میں عرب، افریقی اور بین الاقوامی نگرانی میں انتخابات کے اجرا پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔ علاوہ ازیں اقتصادی مذاکرات کو تیز کرنے اور تیل کی آمدنی کی تقسیم کے طریقہ کار کو طے کرنے پر بھی زور ہے تا کہ تیل کی برآمدات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے۔

سرت کا تزویراتی شہر کئی ماہ سے وفاق کی فورسز اور لیبیا کی فوج کے درمیان فائر بندی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کئی بار خبردار کر چکی ہے کہ متحارب فریقین کی جانب سے سرت شہر کے گرد عسکری جتھوں کو اکٹھا کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے سے گریز کیا جائے۔ دوسری جانب ترکی ایک سے زیادہ مرتبہ یہ باور کرا چکا ہے کہ سرت شہر سے دست بردار ہونا وفاق حکومت کے لیے گھاٹے کا سودا ہو گا۔

یاد رہے کہ سرت شہر لیبیا کے سابق مقتول سربراہ کرنل معمر قذافی کا آبائی شہر ہے۔ بعد ازاں یہ داعش تنظیم کا گڑھ بن گیا۔ اس شہر کو لیبیا کے مشرقی اور مغربی حصوں کے درمیان تزویراتی محل وقوع کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے۔