.

غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ سے میگا پروجیکٹس پر توجہ مرکوز کی: الفالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر برائے سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال کے نتیجے میں مملکت میں رواں سال غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں سست روی دیکھی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ سے ہم نے میگا منصوبوں‌پر توجہ مرکوز کی ہے۔

الفالح نے 'جی 20' کے سرمایہ کاری اور تجارت کے وزرا کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ غیرملکی سرمایہ کاری میں‌ کمی کے باعث حکومت کو میگا پروجیکٹس پر توجہ مرکوز کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کے بعد براہ راست مقامی سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ مملکت میں اس سال وبائی مرض کے باوجود مختلف منصوبوں پر کام جاری رکھا گیا اور میگا منصوبوں پر زیادہ توجہ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ میگا پروجیکٹس ویژن 2030 کا حصہ ہیں اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بحیرہ احمر کے کنارے پر قائم 'نیوم' سیاحتی اور صنعتی منصوبے کے فریم ورک کے مطابق ہیں۔ سعودی عرب اس پروگرام میں مقامی اور غیرملکی سرماریہ کاروں کو سرمایہ کاری کے لیے ترغیب دے رہا ہے۔