.

ایرانی مداخلت کا مقابلہ کرنے کے لیے یمن اور امریکا کے درمیان بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے امن کے حوالے سے یمن کی آئینی حکومت کی کوششوں کو قابل قدر قرار دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق یمنی حکومت کا ریاض معاہدے پر عمل درامد کے لیے مثبت تیزی دکھانا اور ایرانی چیلنج کا مقابلہ کرنا قابل تعریف ہے۔

امریکا کا یہ موقف منگل کی شام یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی اور یمن کے لیے امریکی خصوصی ایلچی الیوٹ برامز کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آیا۔ اس موقع پر یمن میں امریکی سفیر کرسٹوفر ہنزل بھی موجود تھے۔

امریکی ایلچی اور سفیر نے باور کرایا کہ یہ ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ دل چسپی کے تزویراتی معاملات میں تعاون اور متبادل مشاورت کے سلسلے میں ہوئی۔ ان معاملات میں ایرانی مداخلت کا مقابلہ کرنا بھی شامل ہے جو حوثیوں کو اسمگلنگ کے ذریعے ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

یمنی صدر نے اپنے ملک کے امریکا کے ساتھ تزویراتی اور امتیازی تعلقات کی سطح کو سراہا۔ ان کا مقصد دہشت گردی اور یمن اور خطے میں ایرانی مداخلت جیسے معاملات میں مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ ساتھ ہی ایرانی تجربے کو یمن منتقل ہونے سے روکنا اور آبنائے باب المندب میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

اس موقع پر منصوری ہادی نے ایک بار پر اس الزام کو دہرایا کہ ایران آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب پر کنٹرول کے ذریعے بین الاقوامی جہاز رانی پر غلبہ حاصل کرنے کی حکمت عملی میں مصروف ہے۔

اس سے قبل جمعرات کے روز یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی یہ کہہ چکے ہیں کہ ایرانی نظام اور اس کا آلہ کار حوثی ملیشیا یمن میں ایسی فرقہ وارانہ ملیشیا بنانے کے لیے کوشاں ہیں جو ولایت فقیہ کی وفادار ہو اور ایرانی پاسداران انقلاب کے احکامات کی پابند ہو۔ اس ملیشیا کو قومی فوج اور سیکورٹی اداروں کے متبادل کے طور پر مضبوط بنایا جا رہا ہے۔