سعودی فن کار جس نے مصوری کا منفرد انداز اپنایا
شوخ رنگوں کے ساتھ اپنے افکار اور خیالات کو منفرد اسلوب میں فن پاروں کی صورت دینے والے سعودی مصور 'عبدالعزیز آل عبدالعزیز' نے عالمی سطح پر اپنی پہچان پیدا کرنا شروع کر دی ہے۔
انہوں نے بچپن سے ہی مصوری کا آغاز کر دیا تھا۔ ابتدا میں وہ تصویر کشی اور گرافک ڈیزائننگ میں مصروف رہے۔ بعد ازاں تجربات کے طویل سفر سے گزرتے ہوئے عبدالعزیز فنون لطیفہ پر جا کر ٹھہر گئے۔ انہوں نے فن پاروں کی متعدد نمائشوں میں شرکت کی۔ وہ چہروں اور شخصیات کی مصوری میں اپنا خصوصی انداز رکھتے ہیں۔
عبدالعزیز کہتے ہیں کہ "امریکا میں تعلیم کے دوران میں نے فوٹوگرافی کا شوق پورا کیا اور اس دوران معروف ماڈلز کے ساتھ کام کیا۔ فوٹوگرافی نے مجھے سکھایا کہ روشنی اور سائے کے ساتھ کس طرح معاملہ کرنا ہوتا ہے۔ اس نے مجھے سکھایا کہ میں قدرتی جمالیات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کے ذریعے کس طرح سے مایوسی اور رنجیدگی سے نمٹ سکتا ہوں"۔
عبدالعزیز کے مطابق انہوں نے فن کے ہر اسکول سے اہم اور خوب صورت چیز لینے کی کوشش کی تا کہ ایسے فن کے حامل بنیں جو ان کی شخصیت کو امتیازی صورت میں پیش کرے۔
العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ "بحیثیت سعودی فن کار میری خواہش ہے کہ اپنے فن پاروں کے ذریعے سعودی عرب کی ثقافت کو نمایاں کروں اور اسے نوجوانوں کی نظر سے دنیا کے سامنے پیش کروں۔ اس سلسلے میں مجھے گھر والوں ، دوستوں اور معاشرے سے بھرپور سپورٹ ملی ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کے ذریعے بھی مجھے حوصلہ افزائی کے تاثرات موصول ہوئے ہیں"۔
عبدالعزیز نے واضح کیا کہ انہوں نے ایک مختلف طریقے سے اپنی مصوری کو پیش کیا ہے اور دیگر فن کاروں کے کام کو دہرانے سے اجتناب کیا ہے۔ عبدالعزیز کے مطابق انہوں نے اب تک کسی مقابلے میں شرکت نہیں کی اس لیے کہ وہ خود کو کسی دوڑ میں شامل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
سعودی مصور نے مزید کہا کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے پیغام اور فن کے اسلوب کو ترقی سے کر خود کو چیلنج کرے ،،، ساتھ ہی اپنی ذات اور ذاویے کی تجدید کرے تا کہ دنیا کے سامنے نیا کام پیش کر سکے۔ عبدالعزیز کے مطابق ان کا خواب ہے کہ عالمی فورمز پر اپنے ملک کی نمائندگی کریں اور سعودی جونوجوانوں کے لیے ایک نمونہ بنیں