.

ایران کے سرکردہ عالم دین کی صحافی روح اللہ زم کو پھانسی دینے کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سرکردہ شیعہ عالم دین اور ایران کی الحوزہ دینی درسگاہ کے سینیر مدرس آیت اللہ محمود امجد نے حال ہی میں ایک صحافی روح اللہ زم کو پھانسی دینے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے روح اللہ زم کو پھانسی دینے پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ناقدین اور اپوزیشن رہ نمائوں کو کچلنے کاذمہ دار قرار دیا۔

خیال رہے کہ صحافی روح اللہ زم کو ایرانی انٹیلی جنس اداروں‌نے پراسرار طریقے سے اغوا کرنے کے بعد جیل میں ڈال دیاگیا تھا۔ ایران میں ایک انقلاب عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ کی کارروائی کی گئی جس میں انہیں غداری اور فساد فی الارض سمیت کئی دوسرے سنگین الزامات میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ گذشتہ ہفتے کو ایرانی حکام نے اس سزا پرعمل درآمد کرتے ہوئے زم کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔

انسٹا گرام ایپ پو پوسٹ کردہ ایک بیان میں ایرانی مذہبی رہ نما آیت اللہ محمود امجد نے عراق کے سرکردہ شیعہ مرجع آیت اللہ علی السیستانی کو بھی صحافی زم کو پھانسی دینے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں‌ نے کہا کہ السیستانی کی صحافی کے قتل پرخاموشی شرمناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی انٹیلی جنس اداروں نے صحافی روح اللہ زم کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے پہلے فرانس سے عراق منتقل کیا اور وہاں سے انہیں اغوا کرکے ایران لے جایا گیا۔ اس ساری کارروائی پر علی السیستانی کو بھی آواز بلند کرنی چاہیے۔

ایرانی رہ نما محمود امجد نے مصلوب صحافی روح اللہ زم کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا بھی اظہار کیا اور زم کی پھانسی کو'ایک مظلوم کی موت' قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر سنہ 2009ء اور اس کے بعد ہلاک ہونے والے اپوزیشن رہ نمائوں کے قتل کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔

خیال رہے کہ صحافی روح اللہ زم کو پھانسی دینے پردنیا بھر میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی کی اپوزیشن قیادت نے بھی زم کے قتل کوایرانی رجیم کے بدترین ظلم کی تازہ مثال قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں سے اس قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔