.

'السدو' دستکاری کا روایتی فن 'یونیسکو' کے ثقافتی ورثے میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے جزیرۃ العرب کے مشہور روایتی دستکاری فن'السدو' کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم سائنس ثقافت 'یونیسکو' کے فورم پر قومی ثقافتی ورثہ قرار دینے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب اور کویت کی کوششوں سے 'یونیسکو' نے السدو کو ایک غیر منافع بحش ثقافتی ورثہ اور فن قرار دلوایا ہے۔ یہ پیش رفت یونیسکو کے 14 سے 19 دسمبر تک جاری سالانہ اجلا س کے موقعے پر عمل میں لائی گئی ہے۔

یہ کامیابی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے قومی ورثے کے تحفظ ، اسے عالمی سطح پر تسلیم کرانےاور قومی ثقافتی شناخت کے لیے ان کی کوششوں، علاقائی اور عالمی سطح پر رویتی فنون کو اجاگر کرنے کی اہمیت کا ثبوت ہے۔

یونیسکو کے ساتھ السدو کا بہ طور ایک ثقافتی فن کے اندراج کا عمل وزارت ثقافت ، قومی کمیٹی برائے تعلیم ، سائنس و ثقافت ، یونیسکو میں سعودی عرب کے مندوب، ایسوسی ایشن "ہم اپنا ورثہ ہیں" اور کویت کے تعاون اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔

السدو کھڈی پر کپڑا تیار کرنے کا آٹھواں ثقافتی عنصر ہے کہ جسے مملکت نے 'یونیسکو' میں شامل کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔اس اقدام کا مقصد مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اس روایتی فن کی اہمیت پر روشنی ڈالنا ، اس کے تسلسل کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے اور نسل در نسل چلے آرہے اس فن کی پائیداری کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

السدو ایک تخلیقی روایتی دستکاری فنون میں ایک فن ہے جو جزیرہ نما عرب کے باشندوں کے ہاں صدیوں سے مقبول چلا آ رہا ہے۔ اگرچہ جدید صنعت نے اس فن کومتاثر کیا ہے مگر عرب دنیا میں ثقافتی ورثے کے طور پر یہ فن آج بھی زندہ ہے۔