.

کروناوائرس:اسرائیل میں جنوری کے آخرتک 20 لاکھ افراد کو ویکسین لگا دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں حکام نے کہا ہے کہ جنوری کے آخرتک لگ بھگ 20 لاکھ افراد کو کووِڈ-19 کی ویکسین کی دو خوراکیں لگا دی جائیں گی۔

اسرائیل میں 19دسمبر کو امریکا کی دوا ساز فرم فائزر اور جرمن کمپنی بائیواین ٹیک کے اشتراک سے تیارشدہ کووِڈ-19 کی ویکسین شہریوں کو لگانے کی مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔اسی روز صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ویکسین لگوائی تھی۔

ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک کے درمیان کم سے کم دوہفتے کا وقفہ ہونا چاہیے اور تین ہفتوں میں دونوں خوراکیں لگائی جاسکتی ہیں۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اب کرونا وائرس کی ویکسین لگانے کی رفتار کم کی جارہی ہے۔

اسرائیلی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ہیزی لیوی نےسرکاری نشریاتی ادارے کان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ہم ویکسین کی پہلی خوراک لگانے کی رفتار کم کررہے ہیں تاکہ ہمارے پاس دوسری خوراک لگانے کے لیے وافر تعداد میں ویکسینیں موجود ہوں۔‘‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’اسرائیل کی قریباً 20 فی صد آبادی کو اس ماہ کے آخر تک کرونا وائرس کی ویکسین لگا دی جائے گی۔ان میں طبّی کارکنان اور 60 سے زیادہ عمر کے شہری شامل ہیں۔اس طرح جنوری کے اختتام تک 20 لاکھ مکینوں کو ویکسین لگادی جائے گی۔ان میں زیادہ تر ضعیف العمر افراد شامل ہوں گے۔‘‘

اسرائیل میں جمعہ تک دس لاکھ افراد کو کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا انجیکشن لگایا جاچکا تھا۔وزیراعظم نیتن یاہو نے تب کہا تھا کہ ’’ہم (ویکسین لگانے کے) تمام ریکارڈز کو توڑ رہے ہیں۔‘‘انھوں نے اسرائیلی عرب شہر اُم الفہم میں یہ گفتگو کی تھی جہاں دس لاکھویں فرد کو ویکسین کی پہلی خوراک لگائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے مرکزی ادارہ شماریات کے اختتام سال پر جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق صہیونی ریاست کی کل آبادی 92 لاکھ 90 ہزار تھی۔اس میں مقبوضہ مشرقی القدس کی آبادی بھی شامل ہے مگر عالمی برادری اس شہر پر اسرائیل کی عمل داری کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

اسرائیلی وزارت صحت نے اتوار کو بتایا ہے کہ اب تک کروناوائرس کے تشخیص شدہ کیسوں کی تعداد 435866 ہوگئی ہے۔ان میں سے 34 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

وزارت نے دو روز پہلے کرونا وائرس کی نئی شکل کے 18 مقامی کیسوں کی بھی اطلاع دی تھی۔کرونا وائرس کی اس نئی قسم کی گذشتہ ماہ برطانیہ میں تشخیص ہوئی تھی۔اب یہ وائرس دوسرے ممالک میں بھی پھیل چکا ہے۔بالخصوص جنوبی افریقا اس سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔