.

سعودی عرب : 25 برس سے تاریخی ورثے سے متعلق اشیاء جمع کرنے والا خاندان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی شہری عائض المطیری کو یہ معلوم نہ تھا کہ چوتھائی صدی قبل ان کے والد کی جانب سے جمع کی گئی اشیاء ایک روز تاریخی ورثے سے متعلق میوزیم میں تبدیل ہو جائیں گی۔

الحمنہ تاریخی میوزیم کے مالک عائض المطیری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "میں نے بچپن سے اپنے مرحوم والد کو بعض ایسی اشیاء کو مالک پایا جو انہوں نے اپنے آباؤ اجداد سے حاصل کی تھیں۔ والد صاحب کا تاریخی اشیاء اکٹھا کرنے کا شوق جاری رہا۔ وفات سے قبل انہوں نے ہمارے گھر میں جو الحمنہ گاؤں میں واقع ہے ،،، ایک جگہ ان اشیاء کے واسطے مختص کر دی تھی۔ یہ علاقہ مدینہ منورہ اور جدہ کے درمیان 'طریقِ الھجرہ' پر واقع ہے"۔

المطیری کے مطابق ان کے والد سات برس قبل فوت ہو گئے جس کے بعد انہوں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر والد صاحب کا تاریخی ورثے کے حوالے سے شوق کا سفر مکمل کیا۔ المطیری اور ان کے بھائیوں نے خاندان والوں، دوستوں اور نیلاموں کے ذریعے مزید نادر اشیاء جمع کیں۔

المطیری نے بتایا کہ اس وقت ان کے والد کے میوزیم میں 1400 سے زیادہ اشیاء موجود ہیں۔ ان میں ایسی اشیاء بھی ہیں جو تقریبا 160 برس پرانی ہیں۔ میوزیم کی نمایاں ترین اشیاء تلواریں اور نادر ہتھیار ہیں۔

المطیری کے مطابق میوزیم کئی شعبوں پر مشتمل ہے۔ ان میں ہتھیار، خنجر، تلواریں، بندوقیں، گھریلو اشیاء، باورچی خانے کے لوازمات، پتھروں سے بنی اشیاء اور نفیس اور قیمتی چیزیں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح میوزیم میں مردوں اور خواتین کے لباس، دلہن کے لوازمات، چمڑے کی بنی اشیاء، مائع سیال، زرعی آلات، ہاتھ سے بُنی ہوئی اشیاء اور قدیم اسلامی کرنسیاں بھی موجود ہیں۔