.

تونس: کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، 11 قلم دان نئی شخصیات کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تونس کے وزیر اعظم ہشام المشیشی نے ہفتے کے روز کابینہ میں ردّ و بدل کرتے ہوئے 11 نئے وزرا کو نامزد کیا ہے۔ اس کا مقصد اپنی حکومت میں نئی روح پُھونکنا ہے۔ المشیشی نے تقریبا پانچ ماہ سے وزارت عظمی کا منصب سنبھالا ہوا ہے جب کہ ملک کو سیاسی، اقتصادی اور سماجی بحران کا سامنا ہے۔

تبدیلی کا سامنا کرنے والی وزارتوں میں وزارت داخلہ، وزارت انصاف، وزارت صحت، وزارت توانائی، وزارت ریاستی املاک، وزارت بہبود، وزارت سرمایہ کاری و صنعت، وزارت مقامی امور، وزارت ثقافت، وزارت نوجوانان و کھیل اور وزارت کام شامل ہیں۔

وزراء کی نئی فہرست میں شامل نام رائے عامہ کے لیے غیر معروف ہیں۔ ان شخصیات کی سیاسی وابستگی میں معلوم نہیں ہے۔

ہفتے کے روز پریس کانفرنس میں وزیر اعظم المشیشی نے کہا کہ اس وزارتی تبدیلی کا مقصد اپنی حکومتی ٹیم کی کارکردگی کو بلند کرنا، حکومت کی پالیسی کا اطلاق اور اس کے منصوبوں پر عمل درامد کو یقینی بنانا ہے۔ المشیشی کے مطابق کابینہ میں تبدیلیاں صدر قیس سعید کے ساتھ مشاورت کے بعد عمل میں لائی گئی ہیں۔

المشیشی نے بتایا کہ وہ آئندہ چند روز میں نئے وزراء کے ناموں کو پارلیمنٹ میں پیش کریں گے تا کہ آئین کے مطابق ان کی منظوری کے لیے رائے شماری ہو سکے۔

ہشام المشیشی نے ستمبر 2020ء میں تونس کے وزیر اعظم کا منصب سنبھالا تھا۔ سابق وزیر اعظم الیاس الفخفاخ بدعنوانی کے شبہے کے سبب جولائی 2020ء میں مستعفی ہو گئے تھے۔

وزیر اعظم بننے کے بعد سے المشیشی کی حکومت کو بڑے اقتصادی اور سماجی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ گذشتہ برس معیشت کے سکڑاؤ کا تناسب 7% ہو گیا جب کہ بے روز گاری کی شرح بڑھ کر 6 فی صد تک پہنچ گئی۔ ملک کے کئی صوبوں میں معاشی حالات کو بہتر بنانے اور بے روز گاروں کے لیے کام کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔