حوثی ملیشیا یمن کی نئی نسل میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بیج بو رہی ہے: الاریانی

اسکولوں کو ایران کے حامی تیار کرنے کیے استعمال کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے وزیر اطلاعات و نشریات معمر الاریانی نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی اپنے زیر تسلط علاقوں میں اسکول کے بچوں کی غلط ذہن سازی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نئی نسل میں انتہا پسندی، دہشت گردی، ایران کے ہمدردی اور خطے کے ممالک کے خلاف نفرت کے بیج بو کرنہ صرف یمن بلکہ خطے اور عالمی سلامتی کے خلاف ٹائم بم تیار کر رہے ہیں۔

'ٹویٹر' پر پوسٹ کردہ ایک متعدد ٹویٹس میں الاریانی نے کہا کہ حوثی باغیوں کےزیرتسلط علاقوں میں اسکولوں میں بچوں کی برین واشنگ کرکے ان کے ذہن سے یمن کے حقیقی تشخص کو مٹانے اور ان کے ذہن میں 'خمینی افکار' راسخ کرنے مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے اسکول انتہا پسند، دہشت گرد نفرت پھیلانے والی فیکٹریاں بن چکے ہیں جہاں یمن کی نئی نسل کے افکار اور اذہان کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

یمنی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم ایک بار پھر ملک میں نئی نسل کی غلط ذہن سازی کے سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔ ہم واضح کررہے ہیں کہ حوثی ملیشیا یمن کے قومی سماجی دھارے اور ملکی امن کو تباہ کرنے کے بیج بو رہی ہے۔ یمن میں تنوع اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی اقدار کو کچلا جا رہا ہے اور ایک ایسی نسل تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں ایران کے لیے ہمدردی اور یمن قوم کے محسن ممالک کے خلاف نفرت پیدا کی جا رہی ہے۔

الاریانی نے بتایا کہ حوثی ملیشیا کےزیرتسلط علاقوں میں 8 ہزار اسکول ہیں۔ حوثی ملیشیا ان اسکولوں کی انتظامیہ کو فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی انجام دہی اور بچوں‌کے ذہنوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا بیج بونے والا نصاب پڑھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں