.

کرونا سے بچاؤ کی ویکسین سالانہ بنیادوں پر لگوانی پڑ سکتی ہے: ترجمان شعبہ صحت

یو اے ای میں کرونا کے کیسز میں اضافہ، حفاظتی اقدامات پر سختی شروع کر دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ’کرونا وائرس کی ویکسین ہر سال لگوانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘

عرب امارات کے شعبہ صحت کی ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحسینی نے کہا ہے کہ ’کرونا وائرس میں ہونے والی جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ویکیسین ہر سال لگوانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اسی طرح سے جیسے انفلوائنزا سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوائی جاتی ہے۔‘ ڈاکٹر فریدہ کا کہنا تھا کہ ’فلو کی ویکسین بھی ہر سال وائرس میں تبدیلی کے مطابق بنائی جاتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’کرونا سے متاثر ہونے والے افراد میں سے 40 سے 50 فیصد میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔‘

ڈاکٹر فریدہ نے کہا کہ ’زیادہ توجہ عمر رسیدہ افراد پر دی جا رہی ہے، ان میں جتنا جلدی وائرس کی علامات ظاہر ہوں گی، وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اتنے ہی زیادہ امکانات ہوں گے۔‘

متحدہ عرب امارات میں ایک مرتبہ پھر وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد حکومت نے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد میں سختی کرنا شروع کر دی ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی کیس کے علاوہ مریضوں کے داخلے پر ایک ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ جبکہ سماجی اجتماعات، شادیوں اور دیگر سرگرمیوں میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد کم کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ منگل کو متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ گذشتہ پندرہ دنوں سے کرونا متاثرین میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امارات میں اب تک 2 لاکھ 85 ہزار 147 افراد کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں، جن میں سے 2 لاکھ 59 ہزار 194 صحت یاب ہوئے جبکہ 805 کی موت واقع ہوئی۔