.

جزیرہ عرب میں القاعدہ تنظیم کے سربراہ کی گرفتاری کی پہلی بار تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلامتی کونسل میں زیر بحث آنے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ سے پہلی مرتبہ تصدیق ہوئی ہے کہ "جزیرہ عرب میں القاعدہ تنظیم" کا سربراہ خالد باطرفی کئی ماہ قبل یمن میں گرفتار ہو چکا ہے۔ مزید یہ کہ باطرفی کا نائب سعد عاطف العولقی گذشتہ اکتوبر میں یمن کے صوبے المہرہ کے شہر الغیضہ میں ایک سیکورٹی آپریشن کے دوران ہلاک ہو گیا۔

البتہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں باطرفی کی گرفتاری کی کارروائی اور اس کی موجودگی کے حالیہ مقام کے حوالے سے کوئی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔

باطرفی کو امریکا اور دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی کی ایجنسیوں کے لیے معلومات کا ایک خزانہ شمار کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ تنظیم کو ایک طرف اپنے کمانڈروں سے محروم ہو رہی ہے تو دوسری طرف تنظیم کو جزیرہ عرب میں اندرونی انحراف اور پھوٹ کا سامنا ہے۔ افغانستان، مالی، صومالیہ، یمن اور شام کے صوبے ادلب میں سینئر کمانڈروں سے ہاتھ دھونے کے بعد القاعدہ کو بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال فروری میں القاعدہ تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ جزیرہ عرب میں تنظیم سربراہ قاسم الریمی جنوری کے اواخر میں یمن میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا۔ تنظیم نے خالد باطرفی کو الریمی کا جاں نشیں نامزد کیا تھا۔

خالد باطرفی کا تعلق یمن کے ایک گھرانے سے ہے۔ اس نے 11 ستمبر کے واقعات سے پہلے افغانستان میں القاعدہ تنظیم کے ساتھ تربیت حاصل کی تھی۔ بعد ازاں وہ یمن میں القاعدہ کی شاخ میں شامل ہو گیا۔