ابھا ہوائی اڈے پر حوثی حملہ: عرب اور خلیجی ریاستوں کا سعودی عرب سے اظہار یکجہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے ابھا شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی باغیوں کی طرف سے کیے گئے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نایف الحجرف نے ایک بیان میں ابھا ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں معصوم شہریوں‌ کی جانوں‌ کو خطرے میں ڈالنے کی مجرمانہ اور دانستہ کوشش ہیں۔

نایف الحجرف نے ایک بیان میں‌ کہا کہ اس حملے کے بعد دہشت گردوں کا کڑا محاسبہ کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ دہشت گردوں سے عالمی قانون اور خلیج تعاون کونسل کے وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق نمٹنا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے حملوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کےخلاف خلیج تعاون کونسل سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک کی سلامتی اور عوام کی جان ومال کے تحفظ کے میدان میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔

متحدہ عرب امارات، کویت

ادھر متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ابھا شہر میں حوثیوں کے حملے کو بزدلانہ اور ناقابل قبول اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔امارات نے دہشت گردی کی مجرمانہ کارروائی پر سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور امارات کی سلامتی لازم وملزوم ہیں۔

ابھا ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے پر کویت نے بھی شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے حوثیوں‌ کی اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔

خیال رہےکہ کل بدھ کے روز سعودی عرب کے شہر ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی باغیوں کی طرف سے چھوڑے گئے ڈرون طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سے ہوائی اڈے پر آگ بھڑک اٹھی تاہم ان حملوں میں‌ کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے اس ہفتے میں سعودی عرب کی جانب ایک مرتبہ پھر ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے تیز کر دیے ہیں۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے گذشتہ سوموار کو قاہرہ میں عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیائیں عرب ممالک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرے کا موجب بنی ہوئی ہیں۔

مصر، اردن، یمن اور بحرین

امریکا کے علاوہ دہشت گردانہ اور افسوسناک واقعہ پر مصر، اردن، یمن اور بحرین کی جانب سے بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کےجنوبی شہر ابہا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنائے جانے پر مصر اس حملے کی مذمت کرنے والے پہلے ممالک میں شامل تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ائیرپورٹ پر کھڑےہوائی جہاز کو آگ لگ گئی تھی۔

مصر کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا کی ان مجرمانہ دہشت گردی کی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے میں مصر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی دہشت گرد کارروائیوں سے مملکت کی سلامتی، استحکام اور سعودی شہریوں کے ساتھ غیر ملکی رہائشیوں کی حفاظت کو بھی خطرہ ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر العریانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابہا ائیر پورٹ پر ہونے والے اس بزدلانہ حملے سے مختلف قومیتوں کے ہزاروں شہری مسافروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ معمر العریانی نے مزید کہا کہ یہ حملہ "مکمل جنگی جرائم کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ حوثی ملیشیا کے ذریعہ ایرانی ہتھیاروں اور ماہرین کے ذریعہ کئے گئے دہشت گردانہ حملوں کی توسیع ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسے حملوں سے شہری رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے خطے میں سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے کے ایران کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

اردن کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ائیرپورٹ پر کھڑے جہاز کو نشانہ بنا ئے جانے کے واقعہ نے بے گناہ شہری مسافروں کی جان کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردن اس طرح کی "بزدلانہ دہشت گردی کی کارروائیوں" کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ بحرین نے اس حملے کو بین الاقوامی انسانیت سوز قانون کی صریحا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں