.

ایرانی ملیشیائوں نے دیر الزور میں قائم سرنگوں میں میزائل ذخیرہ کرنا شروع کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اسرائیل کے فضائی حملوں میں اضافے اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بعد ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں‌ نے دیر الزور میں موجود اپنے اسلحہ کو تباہی سے بچانے کے لیے زیر زمین سرنگوں میں منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا نے کاتیوشا راکٹوں، بھاری اسلحہ اور گولہ بارود کی بڑی مقدار مشرقی دیر الزور میں المیادین شہرمیں سرنگوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ پیہش رفت اسرائیلی فوج اور عالمی اتحادی فوج کی بمباری کے خطرے کے پیش نظر سامنے آئی ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے ذمہ دار ادارے 'سیرین آبزرویٹری' کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کو اسرائیلی بمباری کا خوف ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق فاطمیون ملیشیا نے حالیہ ایام میں اسلحہ، میزائلوں اور گولہ بارود کی بھاری مقدار المیادین میں حاوی کے مقام پر منتقل کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں داعشی جنگجوئوں کی جانب سے کھودی گئی سرنگوں میں اسلحہ کی منتقلی کے ساتھ ساتھ مویشی خانوں میں‌ بھی اسلحہ منتقل کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق المیادین کے نواحی علاقے 'الشیخ انس' میں 'داعش کی جانب سے سرنگیں کھودی گئی تھیں۔ سرنگوں کا یہ سلسلہ الرحبہ قلعے، المزارع، المیادین اور مشرقی دیر الزور کے کئی دوسرے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔