.

ایران سے خفیہ طور پر بحری جہاز سے 44 ملین لیٹر پٹرول وینزویلا منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سمندری ٹریفک سے باخبر رہنے والی ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے خفیہ طور پر ایک مال بردار بحری جہاز کے ذریعے 44 ملین لیٹر پٹرول وینز ویلا کو فراہم کیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق 10 فروری کو ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن نے ایک ملین بیرل سے زیادہ ایرانی ایندھن ضبط کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان خطیب زادہ نے تیل ضبط کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ امریکا کی نئی انتظامیہ اس طرح کی قزاقی کارروائیوں کا ارتکاب کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنی پٹرولیم مصنوعات اور دیگر مصنوعات کی آمد وترسیل کو قذاقی کی کارروائیوں سے بچانے کے لیے کوئی ٹھوس حل تلاش کرنا ہوگا۔

یہ ضبطیاں واشنگٹن کی جانب سے تہران پر اس کے جوہری پروگرام اور امریکا کی جانب سے متعدد ایرانی گروپوں کو دہشت گرد قرار دینےکے بعد ان پر عائد سخت اقتصادی پابندیوں کا ایک حصہ ہیں۔

پچھلے سال ایک نئے نقطہ نظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے شہری ضبطی کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے تقریبا 12 لاکھ بیرل پٹرول ضبط کیا۔امریکی حکام نے کہا تھا کہ یہ پٹرول چار ٹینکروں پر لاد کر ایران سے وینزویلا بھیجا گیا تھا۔
ضبط شدہ ایرانی تیل امریکی جہازوں میں منتقل کرکے اسے امریکا لے جایا گیا۔ ایک ہی وقت میں امریکا کے ہاتھوں ضبط ہونے والی ایرانی پٹرول کی یہ سب سے بڑی مقدار ہے۔

محکمہ انصاف کے ترجمان مارک ریمونڈی نے رواں ہفتے رائٹرز کو بتایا تھا کہ قبضے میں لیا گیا ایرانی تیل فروخت کردیا گیا ہے۔

اگرچہ امریکی حکام نے ایرانی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کے بارے میں نہیں بتایا مگر یہ ممکن ہے کہ یورپی پٹرول کی معیاری قیمتوں کے مطابق امریکا نے ایرانی تیل سے دسیوں‌ملین ڈالر کمائے ہوں گے۔

ایران نے تیل ضبط کرنے کے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے 'بحری قذاقی' قرار دیا تھا۔