مشہور عرب شاعر المتنبی کا نایاب شاعری کا مجموعہ نمائش کے لیے پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے منظوم کلام (شعر وشاعری) کے عالمی دن کے موقعے پر مشہور عرب شاعر ابو طیب المتنبی کا نایاب عربی کلام نمائش کے لیے پیش کیا ہے۔

خیال رہے کہ احمد بن عبدالصمد الجعفی 303ھ کو پیدا ہوئے اور 354ھ کو وفات پائی۔ ان کا منظوم کلام 21 مارچ کو شاعری کے عالمی دن کے موقعے پر نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔

احمد ابو طیب المتنبی کا یہ شعری کلام گیارہویں صدی ہجری یا سترھویں صدی عیسوی میں مرتب کیا گیا۔ اس شعری مجموعے کے مقدمہ میں ابو طیب المتنبی کے حالات واقعات اور اس کے اشعار پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ متنبی کے اس نایاب دیوان کے اوراق کو زرد، سرخ اور نیلے رنگ کے پھولوں کی شکل میں سجایا گیا ہے۔

ابو طیب المتنبی کا شمار عرب دنیا کے ممتاز شعرا میں‌ ہوتا ہے۔ وہ چوتھی صدی ھجرتی کے وسط میں شہرہ آفاق شاعر گذرے ہیں۔ کوفہ، بصرہ، بغداد، حلب، دمشق، مصر اور دوسرے علاقوں میں ان کی شاعری کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ انہیں سیف الدولہ کی شان میں لکھے قصیدوں کی بہ دولت شہرت ملی۔ ان کا شمار عرب دنیا کے بڑے بڑے شعرا جریر، فرزدق، بشار بن برد، ابو نواس، ابو تمام، البحتری، الشریف الرضی، ابو العلا المعری جیسے مسلمان شعرا میں ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری میں 500 ایسے نایاب مخطوطات موجود ہیں‌۔ ان میں 1190ھ کے محمد بن احمد الورغی کا دیوان بھی شامل ہے۔ دیگر شعرا میں احمد ابی حجلہ، عبدالقادر العلمی، محمد البروسوی، محمد بن علی بن عربی، علی بن موسیٰ الانصاری جیسے شعرا کے شاعری کے مجموعی بھی لائبریری کے علمی خزانے کا حصہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں