.

اردن :شاہ عبداللہ دوم نے چچا حسن کو شہزادہ حمزہ سے معاملہ طے کرنے کا اختیار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اپنے چچا شہزادہ حسن کو سوتیلے بھائی اور سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ بن حسین سے معاملات طے کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

شہزادہ حسن مرحوم شاہ طلال اور ملکہ زین کے تیسرے فرزند ہیں۔ وہ مرحوم شاہ حسین کے چھوٹے بھائی ہیں اور شاہ عبداللہ دوم کے حقیقی چچا ہیں۔وہ 1965ء سے 1999ء تک اردن کے ولی عہد رہے تھے لیکن شاہ حسین نے اپنی وفات سے صرف تین ہفتے قبل انھیں اس منصب سے سبکدوش کردیا تھا۔

اردن کے شاہی دیوان کے ایک بیان کے مطابق شہزادہ حمزہ نے ہاشمی خاندان کی روایات کی پیروی کرنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ شہزادہ حسن کی رائے کا احترام کریں گے۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق شاہ عبداللہ دوم اس تمام معاملے کو کسی عدالت کے بجائے شاہی خاندان کے اندر ہی طے کرنے کے حق میں ہیں اور وہ اس کو طول دینے کے حق میں نہیں۔

اردن کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ ایمن الصفدی نے اتوار کوایک نیوزکانفرنس میں بتایا تھا کہ ملک کو عدم استحکام سے دوچارکرنے کے لیے ایک ’’مذموم سازش‘‘ تیار کی گئی تھی۔اس کے ایک مرکزی کردار سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ بن حسین تھے،انھوں نے مقامی حکام اور قبائلی عمائدین کو اپنے حق میں متحرک کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے علاوہ ان کے غیرملکی پارٹیوں سے بھی روابط استوار تھے۔

اردن میں سکیورٹی حکام نے ہفتے کے روز سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ کو ملک میں گڑبڑ پھیلانے کی سازش کے الزام میں ان کے محل میں نظربند کردیا تھا اور شاہی دیوان کے سابق سربراہ اور سابق وزیرخزانہ باسم عوض اللہ سمیت بیس افراد کو گرفتارکرلیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد ملکی استحکام وسلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے،اس لیے انھیں حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے خلاف اب تحقیقات کی جائے گی۔

اردن میں سابق ولی عہد کی نظربندی اور حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں بعض شخصیات کی گرفتاریوں کی اطلاع منظرعام پر آنے کے بعد سعودی عرب کے شاہی دیوان نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا تھا۔اس میں سعودی عرب کی جانب سے شاہ عبداللہ دوم اوران کے ولی عہد شہزادہ الحسین بن عبداللہ دوم کے ملک میں سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام فیصلوں اور اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اتوار کو اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے فون پربات چیت میں مکمل یک جہتی کا اظہار کیا تھا اورانھیں سعودی عرب کی جانب سے بھرپورحمایت کی یقین دہانی کرائی تھی۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اردن کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے شاہ عبداللہ کے تمام اقدامات اور فیصلوں کی حمایت کرتا ہے۔انھوں نے شاہ عبداللہ دوم کے زیر قیادت اردن میں سلامتی ، استحکام اور خوش حالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔