.
سعودی معیشت

سعودی عرب میں عن قریب کسٹم کلیئرنس کا دورانیہ صرف دو گھنٹے تک آ جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے کسٹمز حکام نے انکشاف کیا کہ عالمی بینک کے جاری کردہ "کراس بارڈر ٹریڈ انڈیکس" میں مملکت نے 72 مراکز مزید ترقی کی ہے۔ اس سے ملک میں "کسٹم کلیئرنس" کے طریقہ کار کو ترقی دینے کی صلاحیت مزید بہتر ہو گئی ہے اور مملکت میں کسٹم کلیئرنس کا دورانیہ صرف دو گھنٹے تک محدود ہو جائے گا۔

اس سلسلے میں سعودی کسٹم کے سرکاری ترجمان بدر الربدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ 2017 کے آخر میں اپنی حکمت عملی کے آغاز کے بعد سے کسٹمز کی جنرل اتھارٹی نے کسٹم کلیرئنس میں بہتری لانے کی کوشش کی ہے۔ اس حوالے سے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں۔

ان اقدامات میں درآمد اور برآمد کے لئے درکار دستاویزات میں کمی شامل ہے کیونکہ اس سے قبل درآمدات کے لیے 12 دستاویزات اور برآمدات کے لیے نو دستاویزات جاری کرنے کی ضرورت تھی جبکہ آج درآمدات اور برآمدات کی تفصیلات کو دو دستاویزات تک محدود کر دیا گیا تھا۔

ریاض بندرگاہ
ریاض بندرگاہ

انہوں نے مزید کہا کہ کسٹم کے اعداد و شمار کو پیشگی پیش کرنا بھی ممکن ہو گیا ہے جس سے جنرل کسٹم آف کسٹم کو کسٹم بندرگاہوں پر سامان پہنچنے سے پہلے ہی اعداد و شمار کا مطالعہ اور جائزہ لینے کا موقع مل سکتا ہے۔

الربدی نے مزید کہا کہ ان اقدامات میں کسٹمر سروس سینٹر کے علاوہ یونیفائیڈ سینٹر برائے کسٹم آپریشنز کا بھی آغاز ہوا جس کے ذریعے صارفین کو چھٹی کے روز اور ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے آن لائن خدمات مہیا کی جاتی ہیں۔

اسی سیاق میں بات کرتے ہوئے الزبدی نے کہا کہ ہم نے جنرل کسٹمز اتھارٹی کے پلیٹ فارم سے کاروباری طبقے، صارفین، بنکوں کے عہدیداروں اور سیکیورٹی کے عملے کے لیے ایک مرکزی قائم عمارت میں سب کو ایک چھت تلے جمع کیا۔ اس طرح کسی بھی ایجنٹ کو کسٹمز سے تعلق کسی بھی محکمے سے رابطے کے لیے ایک ہی مرکز سے رجوع کرنے کا موقع ملے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں