.

سعودی عرب: عطیات وخیرات کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے پلیٹ فارم کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماہ صیام کے آتے ہی سعودی عرب میں عطیات وخیرات کے حوالے سے شہریوں میں جوش جذبہ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حکومت نے شہریوں اور سرکاری سطح پرعطیات وخیرات کے کاموں کو منظم کرنے کے لیے 'تبرع' یعنی عطیات کے عنوان سے ایک نیا پلیٹ فارم قائم کیا ہے۔

کل اتوار کے روز سعودی عرب کے وزیر برائے انسانی وسائل و سماجی ترقی احمد الراجحی نے شاہی دیوان کے مشیر اور شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے جنرل سپر وائزر عبداللہ الربیعہ اور ملک بھر میں نموجود مختلف انجمنوں اور خیراتی کونسلوں کے سربراہان پر مشتمل ایک اجلاس میں شرکت کی۔

اس اجلاس کا مقصد سعودی عرب اور بیرون ملک ہونے والے عطیات اور خیرات کے کاموں اور سرگرمیوں کو 'تبرع' پلیٹ فارم کے ذریعے منظم کرنا ہے۔ اس طرح یہ پلیٹ فارم عطیات کے حوالے سے ایک سرکاری انٹرفیس بننے کے ساتھ ساتھ عطیات کے لیے ایک قابل اعتباد فورم بن سکتا ہے۔

یہ پلیٹ فارم ایک ایسے وقت میں متعارف کرایا گیا ہے جب دوسری طرف سنہ 1442ھ کا ماہ صیام سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے زکواۃ، فطرانے، صدقات، ضرورت مندوں‌کی ضروریات پوری کرنے، شہریوں کی بہبود اور ان کی کفالت کے حوالے سے ہونے والی تمام خیراتی سرگرمیوں کو منظم اور مربوط کیا جائے گا۔ اس پلیٹ فارم سے زکواۃ اور صدقات کے مستحق افراد کو آسانی، سہولت اور شفافیت کے ساتھ ان کا حق دیا جائے گا۔ پلیٹ فارم کے ذریعے صدقہ خیرات، زکواۃ اور کفارہ سمیت مجموعی طور پر 500 خیراتی سروس فراہم کی گئی ہیں۔

اس موقعے پر سعودی عرب کے نائب وزیر برائے سماجی بہبود ماجد الغانمی نے کہا کہ اس سال ماہ صیام میں عطیات کا مجموعی تخمینہ 20 ملین تک پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'تبرع' پلیٹ فارم مکمل شفافیت کے ساتھ کام کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مملکت میں اس وقت 13 علاقوں میں 150 فلاحی اور خیراتی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ رواں سال زکواۃ کے سیزن میں زکواۃ سے متعلق 6 مواقع پیش کیے گئے جب کہ اس سے قبل زکواۃ کے 90 مواقع کی منظوری دی گئی تھی۔

سعودی عرب میں خیراتی کاموں کومنظم کرنےکے لیے انہیں ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کے ساتھ 'عطیات کے لیے دروازے پر دستک' کےعنوان سے ایک مہم بھی شروع کی گئی ہے۔