.

بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب اتحادی فوج کی بیس پر راکٹ حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب اتحادی فوج کی ایک بیس کو ایک بار پھر راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

عراقی سکیورٹی انفارمیشن سیل کے مطابق نامعلوم افراد نے كٹيوشا راکٹوں سے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب اتحادی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ اتحادی فوج نے اپنے ٹھکانے پر داغے گئے ایک راکٹ کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے فضا ہی میں تباہ کر دیا۔ عراقی حکام کے مطابق ان حملوں میں‌ کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

عراق کے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے سکیورٹی سروسز کو ہدایت کی ہے کہ بغداد ایئر پورٹ کے قریب نصب کردہ راکٹ لانچروں کا سراغ لگایا لگایا جائے۔ حملے کے بعد وزیر اعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف مصطفی الکاظمی کی زیر صدارت اتوار کی شام اعلیٰ سکیورٹی حکام کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی سکیورٹی سروسز اور پیشمرگہ کے قائدین، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ اور وزیر دفاع بھی موجود تھے۔

اجلاس میں گذشتہ روز بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر راکٹ حملوں کے نتیجےمیں پیدا ہونے والی سکیورٹی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سکیورٹی اداروں کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ دہشت گردوں اور حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ اجلاس میں وفاقی سکیورٹی فورسز اور پیشمرگہ کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی زور دیا گیا۔

مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف نے سکیورٹی فورسز کو متعدد ہدایات جاری کیں جن میں سب سے اہم انٹلیجنس اور سکیورٹی کی کوششوں کو فعال کرنا ہے اور ساتھ ہی داعش کے دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت کا مقابلہ کرنے کے لیے قبل از وقت آپریشن تیز کرنا ہے۔

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل اسی ہوائی اڈے سے متصل فوجی اڈے پر تین راکٹ داغے گئے تھے۔ اس فوجی اڈے پر عراقی فوج کے ساتھ ساتھ امریکی اور عالمی اتحادی فوجوں کے دستے بھی تعینات ہیں۔