.

سعودی انسداد بدعنوانی کمیشن کا کرپشن کیسز کی تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن کمیشن کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا ہے کہ کمیشن نے گذشتہ ایام کے دوران متعدد فوجداری، انتظامی اور مالی بدعنوانی کے متعدد مقدمات کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ان مقدمات میں ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔

وزارت داخلہ ، وزارت خزانہ ، وزارت انصاف اور وزارت ماحولیات ، پانی و زراعت کے تعاون سے ایک سو ملین ریال کی رقم کی فراہمی کی ایک ڈیم میں 32 جائیدادوں کے معاوضے کے طور پر ادائیگی روکی گئی ہے۔ اس کیس میں اپیل جج کو معطل کردیا گیا ہے۔ جج پر بھوگس چیک جاری کرنے اور ان کے عوض رشوت وصول کرنے کاالزام ہے۔ اس کیس میں 12 سرکاری ملازمین بھی ملوث پائے گئے ہیں۔

دوسرے کیس میں زکوٰۃ، ، ٹیکس اور کسٹم اتھارٹی کے تعاون سے 12مقامی باشندوں اور ایک خلیجی شہری کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر ایک سرحدی گذرگاہ سے غیرقانونی طور پر تمباکو کی مملکت منتقلی کی کوشش کا الزام ہے۔ ملزمان ن یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی کہ کنٹینر میں فرنیچر لایا گیا ہے۔ملزمان نے خلیجی ایجنٹ کو ۲ ملین ریال میں سے 9 لاکھ 20 ہزار ریال ادا کردیے تھے۔

انسداد بدعنوانی کمیشن نے وزارت داخلہ کے تعاون سے جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے جیل خانہ جات میں کام کرنے والے ایک اکاؤنٹنٹ کو حراست میں لیا ہے۔وہ قیدیوں کو ممنوعہ چیزیں جیل کے اندر لانے کے عوض ان سے رشوت وصول کرنے میں ملوث ہے۔ ملزم نے غیرقانونی طور پرجمع کی گئی بیس لاکھ ریال کی رقم بھی قبضے میں لے لی ہے اور ملزم کے ساتھ تعاون کے الزام میں اس کی بیوی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

ایک کیس میں ایک انتظامی عدالت کے جج کو بین الاقوامی سفری ٹکٹوں کے اجرا میں غیرقانونی طور پر تعاون کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم نے اس دھندے کے لیے 2،500،000 وصول کی تھی۔

پانچویں کیس میں ایک یونیورسٹی کے ملازم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس نے اپنے رشتہ داروں سے وابستہ تجارتی اداروں کو براہ راست خریداری کے ذریعے 17 منصوبوں کے لیے 2،166.377 کی رقم غیرقانونی طور پر دلوائی تھی۔

چھٹے کیس میں کمپنی کے ایک ملازم کے ذریعے کمپنی کے مالک سے ایک ملین چھ لاکھ ریال کی رقم حاصل کرنے پر انتظامی عدالت کے اپیل جج کو معطل کرنے کے بعد اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے۔