.

کیا عراق میں ڈرون استعمال کرنے والے گروپوں کو لبنان میں تربیت دی گئی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جانب سے عراق میں اپنی ہمنوا ملیشیاؤں کے کارڈز کو از سر نو ترتیب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس واسطے تہران سیکڑوں "با اعتماد" جنگجوؤں کا انتخاب کر کے اپنے ہمنوا چھوٹے گروپ تشکیل دے رہا ہے۔ یہ بات گذشتہ ماہ روئٹرز نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔

اس حوالے سے میلکم کیئر کارنیگی سینٹر فار مڈل ایسٹ کے ایک محقق اور عراق کے امور کے ماہر حارث حسن نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کے مارے جانے کے بعد عراقی گروپوں کا جن کی تعداد پچاس کے قریب ہے ،،، نظم و ضبط کم ہو گیا۔ ان میں الحشد الشعبی ملیشیا کی قیادت کے لیے مقابلے بازی شروع ہو گئی۔ اس کی وجہ عراقی ریاست کی جانب سے ملنے والی مالی رقوم ہیں۔ اس طرض ایرانی پاسداران انقلاب کے ایجنڈے پر عمل درامد مرکزی ترجیح نہ رہی"۔

عراقی گروپوں میں "بدر" تنظیم، "عصائب اہل الحق" اور عراقی "حزب الله" کے بیچ رسہ کشی سامنے آنا شروع ہو گئی۔ یہ گروپ ملک میں قائم سیاسی تنازع میں کود پڑے۔ ان پر عوامی مظاہروں کو کچلنے کا الزام لگا۔ اس دوران یہ گروپ متعدد ہلاکتوں میں بھی ملوث رہے۔ بعد ازاں 2019ء کے اواخر میں شدید عوامی رد عمل اور ایرانی نفوذ کے خلاف بھرپور مظاہروں کے بعد تہران نواز یہ گروپ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔

حارث حسن کے مطابق مذکورہ چھوٹے چھوٹے گروپ سیکڑوں با اعتماد اور تہران کے وفا دار جنگجوؤں پر مشتمل ہیں۔ ان کو نئی تدابیر کی تربیت دینا نا گزیر تھا۔ اس حوالے سے ڈرون طیاروں کی ٹکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔ یہ خطے میں ایران کی جنگوں میں استعمال ہونے والا نیا ہتھیار ہے۔

عراقی امور کے ماہر نے واضح کیا کہ "ان گروپوں کی تربیت لبنان میں حزب اللہ کے منجھے ہوئے عناصر کے ہاتھوں ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ حزب اللہ کا زیادہ نظم و ضبط کا حامل ہونا اور ایک خود مختار سیاسی و جغرافیائی رقبہ رکھنا ہے جس کی عراق کے برعکس لبنان میں کوئی خلاف ورزی نہیں کر سکتا"۔

حزب اللہ کے ہاتھوں تربیت کا مشن اس وجہ سے بھی آسان رہا کہ عراقیوں کو ویزے کے بغیر لبنان میں داخل ہونے کی آزادی ہے۔

دوسری جانب عراقی محقق اور صحافی ریاض محمد کے مطابق "یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایران نے عراقی ملیشیاؤں کی تربیت کے لیے حزب اللہ پر اعتماد کیا۔ کم از کم 2007ء سے حزب اللہ کے عناصر ایران میں خصوصی جماعتوں کو تربیت دیتے آ رہے ہیں"۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ریاض نے بتایا کہ کبھی یہ تربیت ایران میں اور کبھی لبنان میں ہوتی ہے۔ اس کا انحصار حالات اور سیکورٹی کی صورت حال پر ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ 1996ء میں حزب اللہ نے ڈرون طیاروں کو اپنے استعمال میں داخل کیا۔ اس کا مقصد اسرائیلی جاسوس ڈرون طیارےMK کا مقابلہ کرنا تھا جو لبنان پر پروازیں کرتا ہے۔

اس مقصد کے لیے حزب اللہ نے یونٹ 127 بنایا جو ڈرون طیارے تیار کرنے کے لیے مخصوص ہے۔ اس کی سربراہی حسان اللقیس کے پاس تھی جس کو دسمبر 2013 میں بیروت کے جنوبی نواحی علاقے ضاحیہ میں قتل کر دیا گیا تھا۔

با خبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر کو بعید از قیاس قرار نہیں دیا کہ حزب اللہ نے شام میں حمص کے مغربی دیہی علاقے میں واقع شہر القصیر میں ڈرون طیاروں کے استعمال کی تربیت کا ایک مرکز قائم کیا۔ حزب اللہ کا بشار حکومت کے ساتھ مل کر اس مرکز پر کنٹرول ہے۔