.

حوثی ملیشیا نے داعش کی طرز پرشادی بیاہ کی تقریبات میں تفریحی سرگرمیوں پرپابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اپنےزیرتسلط علاقوں میں شادی بیاہ کی تقریبات میں سماجی نوعیت کی رسوم کی ادائی اور دیگر تفریحی سرگرمیوں پرپابندی عاید کردی ہے۔ حوثی ملیشیا کی طرف سے عائد کردہ پابندی نے افغانستان میں طالبان اور شام اور عراق میں دولت اسلامیہ ’داعش‘ کے اقدامات کی یاد تازہ کردی ہے۔

حوثی ملیشیا کی طرف سے صنعا کے گورنر عبدالباسط الھادی کے دستخطوں سے ایک سرکلر جاری کیا ہے ۔اس سرکلر میں تمام مقامی کونسلوں کے سربراہان اور ڈاریکٹوریٹس کی انتظامیہ کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ شادی بیاہ کی تقریبات کے دوران بینڈ باجے، ڈھول اور رقص جیسی رسوم پرپابندی عاید کریں۔

سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ اطلاعات ملی ہیں کہ بعض لوگ شادی بیاہ کی تقریبات میں فن کاروں اور فن کاراؤں کو مدعو کرتے اور ان مختلف غیر اسلامی فن کاری کراتے ہیں۔

خیال رہے کہ یمن کے سخت گیر شیعہ حوثی گروپ کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ذرایع ابلاغ کے مطابق یہ گروپ ایرانی رجیم کے اشاروں پر کام کرتا ہے۔