.

لبنان میں ایندھن کی درآمد کے لیے زرِمبادلہ کے ذخائرکااستعمال کس قانون کے تحت ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے مرکزی بنک نے حکومت سے زرِمبادلہ کے ذخائر میں سے غیرملکی کرنسی کے ایندھن کی درآمد کے لیےاستعمال سے متعلق قانونی بنیاد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔لبنانی حکومت بیرون ملک سے ایندھن درآمد کرتی ہے اور پھراس کو زرتلافی (سب سڈی) پرعام شہریوں کو مہیّا کرتی ہے۔

مرکزی بنک کی جانب سے یہ بیان جمعرات کو صدر میشیل عون اورنگران وزیر توانائی ریمنڈ غجار کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔انھوں نے اس وقت ملک کو درپیش ایندھن کی شدید قلت کے بحران پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

بنک نے کہا ہے کہ ’’اگر حکومت قرض لینے پر اصرار کرتی ہے تو اس مقصد کے لیے اس کومناسب قانونی فریم ورک کی منظوری دینی چاہیے تاکہ ایندھن کی درآمد کے لیے زرمبادلہ کے ذخائرمیں سے غیرملکی کرنسی کا استعمال کیا جاسکے۔‘‘

تاہم اس نے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ اسے مالی ذخائر سے حکومت کو قرض دینےکے لیے کون سا قانونی فریم ورک درکارہوگا۔مرکزی بنک میں مقامی قرض دہندگان کی طرف سے جمع کردہ رقوم کے علاوہ نقد کرنسی کی شکل میں ذخائرموجود ہیں۔یہ بالعموم غیرمعمولی حالات میں قانونی اجازت کے بغیرحاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں۔

مرکزی بنک کا کہنا ہے کہ ’’وہ قانون کے تحت حکومت کو ’’غیرمعمولی خطرے‘‘کے حالات میں زرمبادلہ کے ذخائر سے قرض دے سکتا ہے کیونکہ اب لبنان ایسے ہی حالات سے گزر رہا ہے۔‘‘

لبنان اس وقت شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔اس سے 1975-1990ء کی خانہ جنگی کے بعد اس کے استحکام کے لیے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔گذشتہ ہفتوں میں ایندھن کی قلت کی وجہ سے موٹرسائیکل سواروں کو گیسولین کے حصول کے لیے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنا پڑا ہے اور مایوس شہریوں میں لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

مرکزی بنک کی حکومت کو درخواست اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ لبنان کے پاس گندم، ایندھن اور ادویہ جیسی بنیادی اشیاء پر زرتلافی کے پروگرام کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہوچکے ہیں۔ اس پروگرام پر لبنان سالانہ قریباً 6 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے اور اس میں سے نصف رقم ایندھن کی درآمد پرصرف ہوتی ہے۔

مرکزی بنک کا کہنا ہے کہ شہریوں کو زرتلافی دینے کی اسکیم ملک کے سماجی اور معاشی استحکام کے لیے اہمیت کی حامل ہے، لیکن سرکاری رقوم کے ضیاع کو روکنے کے لیے اس اسکیم میں سدھار کی ضرورت ہے۔