.
ایرانی ملیشیا

شام اور عراق میں امریکی حملوں کے بعد الحشد ملیشیا کی بدلہ لینے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ’سیرین آبزر ویٹری‘ کے مطابق عراق اور شام کی سرحد پر اتوار کی شب ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پرکی گئی بمباری میں کم سے کم 7 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف ایرانی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا الحشد الشعبی امریکی فضائی حملوں میں اپنے چار جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

الحشد الشعبی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراق کی سرزمین پرہمارے مراکز کو نشانہ بنانے کے بعد جوابی کارروائی کرنا ہمارا حق ہے۔ ہم حملے کرنے والوں سے ان کا حساب ضرور لیں گے۔

تاہم الحشد ملیشیا نے امریکی دعووں کے برعکس اپنے اسلحہ گوداموں کو نقصان پہنچانے کی تردید کی۔ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق اور شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

درایں اثنا عراق کے الفتح اتحاد نے القائم شہر میں امریکی فضائی حملے میں اپنے متعدد جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

فتح اتحاد نے عراقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک سے امریکی فوج کو نکال باہر کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

ادھر عراق کی مسلح افواج نے امریکی فضائی حملوں کے بعد مزید کشیدگی اور محاذ آرائی سے گریز اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

عراقی فوج کا کہنا ہے کہ عراق کو کسی تیسری طاقت کے لیے میدان جنگ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شام میں عراق کے ساتھ سرحد پر امریکی فضائی حملوں میں ایران نواز گروپوں کے کم از کم 5 ارکان ہلاک ہو گئے۔ یہ بات آج پیر کو شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے بتائی۔

ایک امریکی ذمے دار کے مطابق شام اور عراق میں ایرانی ملیشیاؤں پر حملوں کے لیے درست نشانے کے حامل ہتھیار استعمال کیے گئے۔

المرصد کا کہنا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے عراق شام سرحد اور شامی اراضی کے اندر ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے عسکری مراکز اور ان کی نقل و حرکت کو نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں ان ملیشیاؤں کے کم از کم 5 ارکان مارے گئے جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی SANA کے مطابق "اتوار اور پیر کی درمیانی شب دیر الزور صوبے کے انتہائی مشرق میں عراق کے ساتھ سرحدی علاقے کو لڑاکا طیاروں کے ذریعے فضائی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں ایک بچہ جاں بحق اور تین شہری زخمی ہو گئے"۔

امریکی وزارت دفاع ’’پینٹاگان‘‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ فضائی بم باری، عراق میں ان گروپوں کی جانب سے امریکی اہل کاروں اور تنصیبات پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ "حالیہ حملوں سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ صدر جو بائیڈن امریکیوں کی حفاظت کے لیے حرکت میں آنے کے لیے پُر عزم ہیں"۔

پینٹاگان نے العربیہ کو دیے گئے خصوصی بیان میں اس بات کی تردید کی ہے کہ اس فوجی کارروائی کے بعد رد عمل کے حوالے سے اندیشے پائے جا رہے ہیں۔