.

امارات میں اسرائیلی سفارت خانے کا قیام خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں اسرائیلی سفارت خانے کے افتتاح کو خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے اہم قرار دیا ہے۔

محکمہ خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا ہے ’’کہ امریکا ابو ظبی میں اسرائیلی سفارت خانے کی تاریخی افتتاحی تقریب متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجہ امور الشیخ عبداللہ بن زاید آل نھیان کی میزبانی میں اسرائیل کے نائب وزیر اعظم اور وزیر برائے امور خارجہ یائیر لاپیڈ کی تقریب میں شرکت کا خیر مقدم کرتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ نئے اسرائیلی وزیر خارجہ کا یہ پہلا دورہ متحدہ عرب امارات ہے۔ متحدہ عرب امارات میں پہلا اسرائیلی سفارت خانہ کھولنا دونوں اطراف اور خطے کے لئے اہم ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امریکا شراکت کے تمام پہلوؤں کو بڑھانے اور مشرق وسطی کے تمام لوگوں کے لیے زیادہ پرامن، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی تشکیل کے لیے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے نئے وزیر خارجہ یائر لاپیڈ متحدہ عرب امارات کے پہلے دوروزہ سرکاری دورے پر ابوظبی پہنچے ہیں۔ انھوں نے منگل کے روز اماراتی دارالحکومت میں ایک عارضی عمارت میں اسرائیل کے نئے سفارت خانے کا افتتاح کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی کے بعد کسی اسرائیلی وزیر کا یواے ای کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وہ دبئی میں اسرائیل کے ایک قونصل خانے کا افتتاح بھی کرنے والے ہیں اور یو اے ای کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی تعاون سے متعلق ایک سمجھوتے پر دست خط کریں گے۔

یائر لاپیڈ نے ابوظبی میں سفارت خانہ کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ’’اسرائیل اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ امن چاہتا ہے۔ہم کہیں جانے والے نہیں،مشرقِ اوسط ہمارا وطن ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم یہاں رہنے کے لیے ہیں۔ہم خطے کے تمام ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس (حقیقت) کو تسلیم کریں۔‘‘

یائر لاپیڈ نے گذشتہ سال یو اے ای اور بحرین سے معاہدہ ابراہیم طے کرنے پر سابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے کردار کو سراہا اور امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ صدر جو بائیڈن کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے والے عرب اور مسلم ممالک کے حلقے کو وسیع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔