.

بحر الاحمرکے ساحل پر اونٹوں کا ’کاروان خفاف‘ میں ظہور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صحرائی جہاز یعنی اونٹوں کے قافلوں کا انسانی تاریخ کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ عرب دنیا کے قدرتی حسن اس وقت تک تکمیل نہیں ہوتی جب تک اس میں اونٹوں کے جمالیاتی حسن کو شامل نہ کیا جائے۔ بالعموم عرب دنیا بالخصوص خلیجی ممالک میں اونٹوں کے قافلے صدیوں پرانی روایت ہے۔ عرب باشندے صحراؤں کے بیچ یا ساحلوں کے ساتھ ساتھ اونٹوں کے کاروان چلانے کے عاشق ہیں۔

اونٹوں کے ساتھ جڑی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے سعودی عرب کے اونٹ کلب نے بحر الاحمر کے ساحل پر’کاروان خفاف‘ کے عنوان سے اونٹوں کے قافلے چلانے کا اینی شی ایٹیو لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد القنفذرہ کے طلسماتی ساحلی علاقے القنع سےاونٹوں کے قافلوں کا گذارنا اور وہاں سے گذرتے قافلوں کےجغرافیائی محل وقوع کے ساتھ مناظر کو محفوظ کرنا ہے۔

اس اقدام کے ذریعے سعودی عرب کی ثقاقت کو صحراؤں، اونٹوں، دیہی زندگی، سمندروں اور قدرتی مقامات کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنے کے ساتھ پہاڑوں، وادیوں، صحراؤں، تاریخی اور ثقافتی مقامات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

قافلہ خفاف

’خفاف‘ کی اصطلاح سعودی عرب اونٹ کلب کی طرف سے اونٹوں کےقافلوں کے ایک سلسلے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔ اونٹوں کے قافلوں کو ایک نام دینے کا مقصد اونٹ کی ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنا اور گوگل لائبریری میں اونٹوں کے بارے میں معلومات میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام سے عرب دنیا اور دوسرے ممالک میں اونٹوں کے ساتھ وابستہ تاریخ، ثقافت اور روایات کو تازہ کرنے اور ان کے ثقافتی اور سماجی پہلوؤں کو مربوط کرنے میں مدد ملے گی۔

اونٹوں کی انسانی تاریخ میں ایک تجارتی اہمیت ہے جسے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آج سے کچھ عرصہ قبل تک اونٹ کو تجارتی سامان کی نقل وحمل کا ایک بڑا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ جزیرۃ العرب میں قدیم تجارت اونٹوں پرکی جاتی تھی۔ عرب ممالک میں اونٹوں کے 17 بڑے تجارتی راستے آج بھی موجود ہیں جن کی تاریخ 3500 سال پرمحیط ہے۔ حجاز کے علاقے میں عکاظ، المجنہ اور ذی المجال جیسے بازار اونٹوں ہی کی بدولت آباد رہتےتھے۔