.

اسرائیلی جہاز پر حملہ : برطانیہ کا سلامتی کونسل میں ایران پر دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ ، رومانیہ اور لائبیریا نے بدھ کے روز عالمی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ "انتہائی غالب گمان کے مطابق" ایران نے گذشتہ ہفتے عُمان کے ساحل کے نزدیک آئل ٹینکر پر حملے کے لیے ایک یا ایک سے زیادہ ڈرون طیاروں کا استعمال کیا۔

تینوں ممالک نے سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں بتایا کہ "اس حملے نے بین الاقوامی کارگو کی سلامتی اور امن کو نقصان پہنچایا اور یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی تھی ... عالمی برادری کو چاہیے کہ اس کارروائی کی مذمت کرے"۔

ادھر اسرائیل نے سلامتی کونسک کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ آئل ٹینکر پر یہ حملہ سمندروں میں ایران کی جانب سے جاری بحری دہشت گردی کی ایک نئی مثال ہے۔ اسرائیل نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ ایرانی افعال کی مذمت کی جائے۔ علاوہ ازیں ایران کی جانب سے جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے اور بین الاقوامی قانون کی بار بار خلاف ورزیوں کے سبب اس پر پابندیاں عائد کی جائیں۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس صحافیوں کو یہ بتا چکے ہیں کہ "ہم خطے کے اندر اور باہر حکومتوں کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں تا کہ اسی تناسب سے جواب دیا جا سکے"۔

گذشتہ جمعہ کے روز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اسرائیلی ذمے داران کے حوالے سے بتایا تھا کہ بحر عرب میں آئل ٹینکر پر حملہ بظاہر کئی ایرانی ڈرون طیاروں کے ذریعے کیا گیا۔ اخبار کے مطابق اسرائیل کی ایک کارکو کمپنی کے زیر انتظام آئل ٹینکر کو جمعرات کی شب عُمان کے ساحل کے نزدیک حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں جہاز کے عملے میں سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق برطانیہ اور رومانیہ سے ہے۔

یہ حملہ 2019ء سے سمندری کارگو پر ہونے والے علاقائی حملوں میں اب تک کی بد ترین کارروائی ہے۔

ایرانی میڈیا نے جمعے کے روز کہا تھا کہ اسرائیلی بحری جہاز پر حملہ ایک ہفتہ قبل شام میں الضبعہ کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کا جواب ہے۔